سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 188 of 315

سیرت طیبہ — Page 188

۱۸۸ خدا تعالیٰ کی ذات سے محض اس اعتراض کو دور کرنا مقصود ہے کہ وہ نعوذ باللہ اپنے کلام میں اپنی ایک سنت بیان فرماتا ہے اور پھر خود اس کے خلاف کرتا ہے۔ایک وعدہ کرتا ہے اور پھر خود اس وعدہ کو توڑتا ہے۔ورنہ جہاں تک خدا کی ایسی قدرتوں کا سوال ہے جو حقیقتہ قدرت کہلانے کی حقدار ہیں اور ان کی وجہ سے خدا میں کوئی نقص لازم نہیں آتا اور اس کے سبحان ( یعنی بے عیب ) ہونے کی صفت میں کوئی رخنہ پیدا نہیں ہوتا وہ یقینا غیر محدود ہیں۔حضرت مسیح موعود اپنے ایک شعر میں کیا خوب فرماتے ہیں کہ :- نہیں محصور ہرگز راستہ قدرت نمائی کا خدا کی قدرتوں کا خضر دعویٰ ہے خدائی کا (11) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کا سب سے بڑا عملی مقصد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت اور ظلیت میں اسلام کی عالمگیر اشاعت اور اسلام کے عالمگیر غلبہ سے تعلق رکھتا تھا۔چنانچہ آپ کی حیات طیبہ کا ایک ایک لمحہ اسی مقدس جہاد میں گزرا اور یہ جہاد صرف ایک محاذ تک محدود نہیں تھا بلکہ آپ کو اسلام کے غلبہ کی خاطر دنیا کے ہر مذہب کے خلاف برسر پیکار ہونا پڑا اور آپ نے خدا کے فضل سے ہر محاذ پر فتح پائی حتی کہ آپ کی وفات پر آپ کے مخالفوں تک نے آپ کو فتح نصیب جرنیل“ کے شاندار لقب سے یاد کیا۔(اخبار وکیل امرتسر ماہ جون ۱۹۰۸ء) لیکن اس جگہ آپ کی تمام مقدس جنگوں کی تفصیل بیان کرناممکن نہیں اور نہ میرا یہ مختصر سا مقالہ اس تفصیل