سیرت طیبہ — Page 184
۱۸۴ یہ واقعہ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی اور بہت سے دوسرے لوگوں کا چشم دید اور گوش شنید ہے جن میں سے بعض غالباً اب تک زندہ ہوں گے۔افسوس ہے کہ مجسٹریٹ کو اس موقعہ پر بات شروع کر کے اسے آگے چلانے کی ہمت نہیں ہوئی اور نہ اس نے از خود نشان نمائی کا ذکر چھیڑنے کے بعد حضرت مسیح موعود کے جلالی جواب پر نشان طلبی کی جرات کی ورنہ نا معلوم دنیا کتناعظیم الشان نشان دیکھتی! مگر کیا خود نشان طلب کرنے کے بعد پھر حق کی آواز سن کر مرعوب ہو جانا اپنی ذات میں ایک نشان نہیں؟ یقینا اس وقت کے لحاظ سے یہی ایک عظیم الشان نشان تھا کہ مکذب نے از خود ایک نشان مانگا مگر پھر حضرت مسیح موعود کے جواب سے ڈر کر خاموش ہو گیا۔اس جگہ یہ اصولی بات بھی ضرور یاد رکھنی چاہیے کہ نشان نمائی اور معجزات اور کرامات کا دکھانا دراصل خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور رسول یا ولی صرف خدا کی قدرت کا آلہ کار بنتا ہے ورنہ اسے از خود معجزہ نمائی کی طاقت حاصل نہیں ہوتی۔اسی لئے قرآن فرماتا ہے کہ انَّمَا الْأَيْتُ عِنْدَ الله ( سورہ انعام ) یعنی معجزات خدا کے اختیار میں ہیں وہ جب اور جس طرح چاہتا ہے اپنے رسولوں کے ذریعہ نشان ظاہر کرتا ہے مگر بعض اوقات خدا تعالیٰ کی یہ بھی سنت ہے کہ وقتی طور پر اپنے نبیوں اور رسولوں میں معجزہ نمائی کی طاقت ودیعت فرما دیتا ہے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزہ شق القمر میں یا جنگ بدر میں کافروں پر کنکروں کی مٹھی بھر کر پھینکنے کے وقت ہوا جب کہ محض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کے اشارے سے خارق عادت معجزے کی صورت پیدا ہوگئی۔ایسے معجزات اصطلاحی طور پر اقتداری معجزات کہلاتے ہیں اور معجزات کی دنیا میں استثناء کا رنگ رکھتے ہیں۔سو معلوم ہوتا ہے کہ اس موقعہ پر