سیرت طیبہ — Page 183
۱۸۳ (۹) میں ایک ضمنی مگر ضروری بات کی وجہ سے اپنے مضمون سے ہٹ گیا۔میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جلالی شان کی بعض مثالیں بیان کر رہا تھا۔چنانچہ ایک واقعہ مقدمہ مولوی کرم دین سکنہ بھیں سے تعلق رکھنے والا جو ملک کی ہند و عدالت میں پیش آیا بیان کر چکا ہوں۔دوسرا جلالی نوعیت سے تعلق رکھنے والا واقعہ بھی اسی عدالت کا ہے۔مسٹر چند ولعل مجسٹریٹ نے ایک دن عدالت میں لوگوں کا زیادہ ہجوم دیکھ کر عدالت کے کمرے سے باہر کھلے میدان میں عدالت کی کارروائی شروع کی اور نہ معلوم کس خیال سے عدالت کی کارروائی کے دوران میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے پوچھا ” کیا آپ کو نشان نمائی کا دعوی ہے؟ حضرت مسیح موعود نے جواب میں فرمایا ”ہاں خدا میرے ہاتھ پر نشان ظاہر فرماتا ہے۔مجسٹریٹ کے اس سوال میں طعن اور استہزاء کا رنگ تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ جواب دے کر تھوڑی دیر سکوت فرمایا گویا خدا کی طرف توجہ فرما رہے ہیں اور اس کی نصرت کے طالب ہورہے ہیں اور پھر بڑے جوش اور غیرت کے ساتھ فرمایا:- جو نشان آپ چاہیں میں اس وقت دکھا سکتا ہوں“ مجسٹریٹ حضور کا یہ جواب سن کر سناٹے میں آ گیا اور اسے سامنے سے کسی مزید سوال کی جرات نہیں ہوئی اور حاضرین پر بھی اس کا خاص اثر ہوا۔اصحاب احمد جلد ۴ روایت (۴۸)