سیرت طیبہ — Page 177
122 ایک طولانی مقدمہ چل رہا تھا اور کھدر پوش ہندو مجسٹریٹ مقدمہ کو لمبا کر کر کے اور قریب قریب کی تاریخیں ڈال ڈال کر حضرت مسیح موعود کو تنگ کر رہا تھا اور افواہ گرم تھی کہ وہ بزعم خود پنڈت لیکھرام کے قتل کا بدلہ لینا چاہتا ہے۔ایک دن اس نے بھری عدالت میں حضرت مسیح موعود سے سوال کیا کہ کیا خدا کی طرف سے آپ کو کوئی ایسا الہام ہوا ہے کہ إِنِّي مُهِينٌ مَنْ أَرَادَاهَانَتك یعنی میں اس شخص کو ذلیل کروں گا جو تیری ذلت کا ارادہ کرتا ہے۔آپ نے بڑے وقار کے ساتھ فرمایا ہاں یہ میرا الہام ہے اور خدا کا کلام۔اور خدا کا مجھ سے یہی وعدہ ہے کہ جو شخص مجھے ذلیل کرنے کا ارادہ کرے گا وہ خود ذلیل کیا جائے گا۔مجسٹریٹ نے کہا ”اگر میں آپ کی ہتک کروں تو پھر ؟“ آپ نے اسی وقار کے ساتھ فرمایا خواہ کوئی کرے وہ خود ذلیل کیا جائے گا۔“ مجسٹریٹ نے آپ کو مرعوب کرنے کی غرض سے دو تین دفعہ یہی سوال دہرایا اور آپ ہر دفعہ جلالی انداز میں یہی جواب دیتے گئے کہ ” خواہ کوئی کرئے“ اس پر مجسٹریٹ حیران اور مرعوب ہو کر خاموش ہو گیا۔(اصحاب احمد جلد ۴ روایت نمبر ۴۹) دوست یا درکھیں کہ یہ اس زمانہ کی بات ہے کہ جب ملک میں انگریز کی حکومت تھی ہاں وہی انگریز جس کی خوشامد کا جماعت احمدیہ کو جھوٹا طعنہ دیا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ مجسٹریٹ محض انگریز حکومت کے کھونٹے پر ہی ناچتا تھا۔مگر باوجود اس کے جب ایمانی غیرت اور حق کی تائید کا سوال پیدا ہوا تو حضرت مسیح موعود سے بڑھ کر ینگی تلوار کوئی نہیں تھی۔آپ نے اپنی ایک نظم میں کیا خوب فرمایا ہے کہ