سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 175 of 315

سیرت طیبہ — Page 175

۱۷۵ اخوت اور غریب نوازی کے حق میں جو عظیم الشان سبق حاصل ہوتا ہے وہ کسی تشریح کا محتاج نہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کمال دانائی سے یہ سبق اپنے قول سے نہیں بلکہ اپنے عمل سے دیا جو قول کی نسبت ہمیشہ زیادہ اثر رکھتا ہے۔آپ کی غریب نواز آنکھ نے دیکھا کہ ایک خستہ حال دریدہ لباس مہمان کو آہستہ آہستہ نام نہاد ”بڑے لوگوں نے دانستہ یا نا دانستہ جوتیوں کی طرف دھکیل دیا ہے تو اس غیر اسلامی نظارے سے آپ کے دل کو سخت چوٹ لگی اور اس غریب شخص کے جذبات کا خیال کر کے آپ کا دل بے چین ہو گیا۔اور آپ نے فوراً سالن کا پیالہ اور روٹیاں اٹھا ئیں اور اس مہمان کو ساتھ لے کر قریب کے حجرہ میں تشریف لے گئے اور وہاں اس کے ساتھ مل کر کھانا کھایا۔بے شک جس شخص کو خدا نے دنیا میں عزت دی ہے ہمارا فرض ہے کہ عام حالات میں اس کے ظاہری اکرام کا خیال رکھیں لیکن یہ اکرام ایسے رنگ میں نہیں ہونا چاہیے کہ جس میں کسی غریب شخص کی تذلیل یا دل شکنی کا پہلو پیدا ہو۔قرآن مجید کا یہ ارشاد کتنا پیارا اور مساوات کی تعلیم سے کتنا لبریز ہے کہ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ اتْقَاكُمُ (سورہ حجرات آیت (۱۴) ” یعنی اے مسلمانو! خدا کے نزدیک تم میں سے زیادہ معزز شخص وہی ہے جوز یادہ متقی اور زیادہ نیک ہے۔‘ کاش ہماری جماعت اس ارشاد کو اپنا طرہ امتیاز بنائے اور دنیا میں حقیقی اخوت اور مساوات کا نمونہ قائم کرے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حدیث میں اپنی امت کے غریبوں کے متعلق فرماتے ہیں کہ وہ اگر نیکی پر قائم ہوں گے تو امیروں کی نسبت پانچ سو سال پہلے جنت میں جائیں گے۔( ترمذی ابواب الزہد )۔یہ ایک استعارے کا کلام ہے جس سے ظاہری غریب اور دل کے غریب دونوں مراد ہیں اور پانچ سو سال سے ایک لمبا عرصہ مراد ہے جس کی۔