سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 171 of 315

سیرت طیبہ — Page 171

121 دوست بن کر رہنے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں جس طرح کہ ان کا امام سب کا دوست تھا۔جس نے دشمنوں کے لئے بھی ہمیشہ دعا کی۔تو جب دشمنوں کے متعلق احمدیت کی یہ تعلیم ہے تو پھر خود سوچ لو کہ دوستوں اور بھائیوں کے ساتھ محبت اور اخوت اور قربانی کا معیار کیسا بلند ہونا چاہیے۔بے شک ہر سچے احمدی کا یہ فرض ہونا چاہیے کہ وہ دنیا سے بدی کو مٹانے کے لئے ہر وقت کوشاں رہے۔مگر بدی اور بد میں بھاری فرق ہے۔اسلام بدی کو پورے زور کے ساتھ مٹاتا ہے مگر بد کومٹانے کی بجائے نصیحت اور موعظہ حسنہ اور دعا کے ذریعہ اصلاح کی طرف کھینچنے کی کوشش کرتا ہے اور یہی صحیح رستہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پنڈت لیکھرام جیسے بدگود شمن اسلام کی ہلاکت پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور فرمایا کہ میں اسے بچانا چاہتا تھا مگر وہ میری نصیحت کورد کر کے ہلاکت کے گڑھے میں جا گرا۔(۵) دراصل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دل میں بلا امتیاز قوم وملت بنی نوع انسان کی ہمدردی اور دلداری کا جذبہ اس طرح کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا کہ وہ ایک پہاڑی چشمہ کی طرح جو اوپر سے نیچے کو بہتا ہے ہمیشہ اپنے طبعی بہاؤ میں زور کے ساتھ بہتا چلا جاتا تھا۔حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی مرحوم جو حضرت مسیح موعود کے ایک بہت پرانے اور مقرب صحابی تھے روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ منی پور آسام کے دور دراز علاقہ سے دو ( غیر احمدی ) مہمان حضرت مسیح موعود کا نام سن کر حضور کو ملنے