سیرت طیبہ — Page 153
۱۵۳ قادر و قیوم خدا ہے جس کو ہم نے پایا۔کیا ہی زبر دست قدرتوں کا مالک ہے جس کو ہم نے دیکھا سچ تو یہ ہے کہ اُس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں مگر وہی جو اُس کی کتاب اور وعدہ کے برخلاف ہے سو جب تم دعا کرو تو اُن جاہل نیچریوں کی طرح نہ کرو جو اپنے ہی خیال سے ایک قانون قدرت بنا بیٹھے ہیں۔۔۔۔کیونکہ وہ مردود ہیں اُن کی دعائیں ہرگز قبول نہیں ہوں گی۔۔۔۔۔لیکن جب تو دعا کے لئے کھڑا ہو تو تجھے لازم ہے کہ یہ یقین رکھے کہ تیرا خداہر ایک چیز پر قادر ہے تب تیری دعا منظور ہوگی اور تو خدا کی قدرت کے عجائبات دیکھے گا جو ہم نے دیکھے ہیں۔۔۔۔خدا ایک پیارا خزانہ ہے اس کی قدر کرو کہ وہ تمہارے ہر ایک قدم میں تمہارا مددگار ہے۔۔۔۔۔اُن لوگوں کے پیرومت بنو جنہوں نے سب کچھ دنیا کو ہی سمجھ رکھا ہے چاہئے کہ تمہارے ہر ایک کام میں خواہ دنیا کا ہو خواہ دین کا خدا سے طاقت اور توفیق مانگنے کا سلسلہ جاری رہے۔۔۔۔۔خدا تمہاری آنکھیں کھو لے تا تمہیں معلوم ہو کہ تمہارا خدا تمہاری تمام تدابیر کا شہتیر ہے۔اگر شہتیر گر جائے تو کیا کٹڑیاں اپنی چھت پر قائم رہ سکتی ہیں؟۔۔۔مبار کی ہو اس انسان کو جو اس راز کو سمجھ لے اور ہلاک ہو گیا وہ شخص جس نے اس راز کو نہیں سمجھا۔“ کشتی نوح روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۰ تا ۲۴) بس اسی پر میں اپنے اس مقالہ کو ختم کرتا ہوں اور میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان روحانی اور اخلاقی اقدار کا وارث بنائے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ دنیا میں نازل ہوئیں اور پھر آپ کے خادم اور نائب حضرت مسیح موعود کے ذریعہ