سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 139 of 315

سیرت طیبہ — Page 139

۱۳۹ اے محبت عجب آثار نمایاں کردی زخم و مرہم برہ یار تو یکساں کردی ذره را تو بیک جلوه گنی بچوں خورشید اے بسا خاک کہ تو بچوں مہر تاباں کر دی جان خود کس نہ دہر بہر کس از صدق وصفا راست اینست که این جنس تو ارزاں کردی تا نه دیوانه شدم ہوش نیامد بسرم اے جنوں گرد تو گردم کہ چہ احساں کر دی آں مسیحا که بر افلاک مقامش گویند لطف کردی کہ ازیں خاک نمایاں کردی ( بدر ۱۶ را پریل ۱۹۰۴ء) یعنی اے محبت ! تیرے آثار عجیب و غریب ہیں کیونکہ تو نے آسمانی معشوق کے رستہ میں زخم کی تکلیف اور مرہم کی راحت کو ایک جیسا بنا رکھا ہے۔تیری طاقت کا یہ عالم ہے کہ ایک ذرہ بے مقدار کو اپنے ایک جلوہ سے سورج کی طرح بنادیتی ہے اور کتنے ہی خاک کے ذرے ہیں جن کو تو نے چمکتا ہوا چاند بنادیا ہے۔دنیا میں کوئی شخص کسی دوسرے کی خاطر صدق و اخلاص کے ساتھ جان نہیں دیتا۔مگر حق یہ ہے کہ اے محبت ! تو نے اور صرف تو نے ہی اس جاں بازی کے سودے کو بالکل آسان کر دیا ہے۔میں تو جب تک خدا کے عشق میں دیوانہ نہیں ہوا میرے سر میں ہوش نہیں آیا۔پس اے