سیرت طیبہ — Page 137
۱۳۷ (۲۵) دوستو! جیسا کہ میں شروع میں بیان کر چکا ہوں میرے اس مضمون کا عنوان در منشور ہے یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اخلاق و عادات اور خاص خاص اقوال کے متعلق غیر مرتب موتی۔اس لئے اس میں کسی ترتیب کا خیال نہ کریں خدا تعالیٰ نے بعض صورتوں میں بکھری ہوئی چیزوں میں بھی غیر معمولی زینت ودیعت کر رکھی ہے چنانچہ آسمان کے ستارے بظاہر بالکل غیر مرتب صورت میں بکھرے ہوئے نظر آتے ہیں مگر ان میں اتنی خوبصورتی اور اتنی جاذبیت ہے کہ تاروں بھری رات کا نظارہ بعض اوقات انسان کو مسحور کر دیتا ہے۔اسی طرح قرآن مجید نے اہل جنت کے نو خیز خدمتگاروں کے متعلق لُؤْلُؤًا مَّنْخُورًا کا لفظ استعمال کیا ہے یعنی وہ اپنی خادمانہ مصروفیات میں ادھر ادھر گھومتے ہوئے یوں نظر آئیں گے کہ گویا کسی نے مجلس میں موتیوں کا چھینٹا دے رکھا ہے۔خالق فطرت حسن و جمال کی آرائشوں کو سب سے بہتر سمجھتا ہے۔اس کی بنائی ہوئی چیزوں میں خواہ وہ مرتب ہیں یا بظاہر غیر مرتب۔بہترین حسن کا نظارہ پایا جاتا ہے۔اور اس کی یہ بھی سنت ہے کہ بعض اوقات وہ اپنے بندوں کو جلال (Mejesty) کے ذریعہ مسحور کرتا ہے اور بعض اوقات جمال (Beauty) کے ذریعہ اپنی طرف کھینچتا ہے۔چنانچہ اس کے رسولوں اور رسولوں کے خلیفوں میں بھی جلال و جمال کا لطیف دور نظر آتا ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام جلالی نبی تھے مگر ان کے آخری خلیفہ حضرت عیسی علیہ السلام جمالی صفات لے کر مبعوث ہوئے۔اسی طرح