سیرت طیبہ — Page 129
۱۲۹ منشی صاحب نے جواب میں بڑی سادگی سے فرمایا میں حضرت مرزا صاحب کو ان کے دعوئی سے پہلے کا جانتا ہوں میں نے ایسا پاک اور نورانی انسان کوئی نہیں دیکھا ان کا نور اور ان کی مقناطیسی شخصیت ہی میرے لئے ان کی سب سے بڑی دلیل تھی۔ہم تو اُن کے منہ کے بھوکے تھے “ یہ کہہ کر حضرت منشی صاحب حضرت مسیح موعود کی یاد میں بے چین ہو کر اس طرح رونے لگے کہ جیسے ایک بچہ اپنی ماں کی جدائی میں بلک بلک کر روتا ہے۔اس وقت مسٹر والٹر کا یہ حال تھا کہ یہ نظارہ دیکھ کر ان کا رنگ سفید پڑ گیا تھا اور وہ محو حیرت ہو کر منشی صاحب موصوف کی طرف ٹکٹکی باندھ کر دیکھتے رہے اور ان کے دل میں منشی صاحب کی اس سادہ سی بات کا اتنا اثر تھا کہ بعد میں انہوں نے اپنی کتاب احمد یہ موومنٹ میں اس واقعہ کا خاص طور پر ذکر کیا اور لکھا کہ مرزا صاحب کو ہم غلطی خوردہ کہہ سکتے ہیں مگر جس شخص کی صحبت نے اپنے مریدوں پر ایسا گہرا اثر پیدا کیا ہے اسے ہم دھو کے باز ہرگز نہیں کہہ سکتے۔“ احمد یہ موومنٹ مصنفہ مسٹر ایچ اے والٹر ) دراصل اگر انسان کی نیت صاف ہو اور اس کے دل و دماغ کی کھڑکیاں کھلی ہوں تو بسا اوقات ایک پاکباز شخص کے چہرہ کی ایک جھلک یا اس کے منہ کی ایک بات ہی انسان کے دل کو منور کرنے کے لئے کافی ہو جاتی ہے۔انبیاء اور اولیاء کی تاریخ ایسی باتوں سے معمور ہے کہ ایک شخص مخالفت کے جذبات لے کر آیا اور پھر پہلی نظر میں ہی یا پہلے فقرہ پر ہی گھائل ہو کر رہ گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی ایک نظم