سیرت طیبہ — Page 110
کہتے ہیں تثلیث کو اب اہل دانش الوداع پھر ہوئے ہیں چشمہ توحید پر از جاں نثار باغ میں ملت کے ہے کوئی گل رعنا کھلا آئی ہے بادصبا گلزار سے مستانہ وار گوکہود یوانہ میں کرتا ہوں اس کا انتظار آ رہی ہے اب تو خوشبو میرے یوسف کی مجھے آسماں سے ہے چلی تو حید خالق کی ہوا دل ہمارے ساتھ ہیں گومنہ کریں بک بک ہزار (براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۱۳۱، ۱۳۲) میں اس موقعہ پر یورپ اور امریکہ اور افریقہ کے احمدی مبلغوں سے کہتا ہوں کہ یہ نہ سمجھو کہ چونکہ غیر احمدی مسلمانوں نے وفات مسیح و حیات مسیح کی بحث کا میدان چھوڑ دیا ہے اس لئے یہ بحث اب ختم ہوگئی ہے۔یہ بحث اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتی جب تک کہ مسیحیت اپنے موجودہ عقائد کے ساتھ زندہ ہے۔پس چاہیے کہ قرآن سے اور حدیث سے اور تاریخ سے اور مسیحی صحیفوں سے اور قدیم کتبات سے اور مدفون گنجینوں سے اور عقلی دلائل سے خدا کی نصرت چاہتے ہوئے مسیح کو فوت شدہ ثابت کرنے کے پیچھے لگے رہو تا وقتیکہ مسیح جو حقیقتا فوت ہو چکا ہے یورپ اور امریکہ اور دوسری عیسائی قوموں کی نظروں میں بھی فوت شدہ ثابت ہو جائے اور اسلام اور مقدس بانی اسلام کے نام کا بول بالا ہو اور یقین رکھو کہ بالآخر یہ ہوکر رہے گا کیونکہ قضائے آسمان است ایں بہر حالت شود پیدا۔66