سیرت طیبہ — Page 104
۱۰۴ قیام کی متواتر نوازشوں پر بایں الفاظ مجھے مشکور ہونے کا موقعہ دیا کہ ہم آپ کو اس وعدہ پر (واپس جانے کی ) اجازت دیتے ہیں کہ آپ پھر آئیں اور کم از کم دو ہفتہ قیام کریں۔۔۔۔میں جس شوق کو لے کر گیا تھا اسے ساتھ لایا۔اور شاید وہی شوق مجھے دوبارہ لے جائے۔“ (اخبار وکیل امرتسر بحوالہ شمائل مصنفہ حضرت عرفانی صاحب) قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے والد یعنی ہمارے دادا صاحب کے زمانہ کا ایک پھل دار باغ تھا۔جس میں مختلف قسم کے ثمر دار درخت تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ طریق تھا کہ جب پھل کا موسم آتا تو اپنے مقیم دوستوں اور مہمانوں کو ساتھ لے کر اس باغ میں تشریف لے جاتے اور موسم کا پھل اتروا کر سب کے ساتھ مل کر بے تکلفی سے نوش فرماتے تھے۔اس وقت یوں نظر آتا تھا کہ گویا ایک مشفق باپ کے ارد گرد اس کے معصوم بچے گھیرا ڈالے بیٹھے ہیں۔مگر اس مجلس میں بھی علم و عرفان کا چشمہ جاری رہتا تھا اور عام بے تکلفی کی باتیں بھی ہوتی تھیں۔اور خدا اور رسول کا ذکر تو حضرت مسیح موعود کی ہر مجلس کا مرکزی نقطہ ہوا کرتا تھا۔(سلسلہ احمدیہ ) (1+) مہمانوں کے ذکر کی ذیل میں ایک درد ناک واقعہ کا خیال آگیا ہے جس کے ذکر سے میں اس وقت رک نہیں سکتا۔افغانستان کے علاقہ خوست میں ایک نہایت درجہ بزرگ عالم رہتے تھے جو رؤسا کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔اور افغانستان میں