سیرت طیبہ — Page 103
شکوہ کی کچھ نہیں جا یہ گھر ہی بے بقا ہے روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَرَانِي محمود کی آمین روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۳۲۳) مہمان نوازی کے تعلق میں مولانا عبد الکلام آزاد کے بڑے بھائی مولانا ابوالنصر مرحوم کے قادیان جانے کا ذکر بھی اس جگہ بے موقعہ نہ ہوگا۔وہ ۱۹۰۵ء میں حضرت مسیح موعود کی ملاقات کے لئے قادیان تشریف لے گئے۔بہت زیرک اور سمجھدار بزرگ تھے۔قادیان سے واپس آکر انہوں نے اخبار ”وکیل امرت سر میں ایک مضمون لکھا جس میں مولانا ابوالنصر فرماتے ہیں کہ :۔میں نے کیا دیکھا؟ قادیان دیکھا۔مرزا صاحب سے ملاقات کی اور ان کا مہمان رہا۔مرزا صاحب کے اخلاق اور توجہ کا مجھے شکریہ ادا کرنا چاہیے۔۔۔اکرام ضیف کی صفت خاص اشخاص تک محدود نہ تھی۔چھوٹے سے لے کر بڑے تک ہر ایک نے بھائی کا سا سلوک کیا۔۔۔۔مرزا صاحب کی صورت نہایت شاندار ہے جس کا اثر بہت قوی ہوتا ہے۔آنکھوں میں ایک خاص طرح کی چمک اور کیفیت ہے۔اور باتوں میں ملائمت ہے۔طبیعت منکسر مگر حکومت خیز۔مزاج ٹھنڈا مگر دلوں کو گرما دینے والا۔بردباری کی شان نے انکساری کیفیت میں اعتدال پیدا کر دیا ہے۔گفتگو ہمیشہ اس نرمی سے کرتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ گو یا منقسم ہیں۔مرزا صاحب کے مریدوں میں میں نے بڑی عقیدت دیکھی اور انہیں خوش اعتقاد پایا۔۔۔۔مرز اصاحب کی وسیع الاخلاقی کا یہ ادنیٰ نمونہ ہے کہ اثنائے