سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 86 of 315

سیرت طیبہ — Page 86

۸۶ گونا گوں اخلاق کے اظہار کا موقعہ عطا کیا اور آپ کو اپنے مشن میں ایسی بے نظیر کامیابی بخشی کہ دہلی کے ایک مشہور غیر احمدی اخبار کے قول کے مطابق مخالف تک پکار اٹھے کہ ”مرزا مرحوم کی وہ اعلیٰ خدمات جو اس نے آریوں اور عیسائیوں کے مقابلہ میں اسلام کی کی ہیں وہ واقعی بہت ہی تعریف کی مستحق ہیں۔اس نے مناظرہ کا بالکل رنگ ہی بدل دیا اور ایک جدید لٹریچر کی بنیاد ہندوستان میں قائم کر دی۔نہ بحیثیت ایک مسلمان ہونے کے بلکہ محقق ہونے کے ہم اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ کسی بڑے سے بڑے آریہ اور بڑے سے بڑے پادری کو یہ مجال نہ تھی کہ وہ مرحوم کے مقابلہ میں زبان کھول سکتا۔۔۔۔اگر چه مرحوم پنجابی تھا مگر اس کے قلم میں اس قدر قوت تھی کہ آج سارے پنجاب بلکہ بلندی ہند میں بھی اس قوت کا کوئی لکھنے والا نہیں۔۔۔۔اس کا پرز ورلٹریچر اپنی شان میں بالکل نرالا ہے اور واقعی اس کی بعض عبارتیں پڑھنے سے ایک وجد کی سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔۔۔۔اس نے ہلاکت کی پیشگوئیوں مخالفتوں اور نکتہ چینیوں کی آگ میں سے ہو کر اپنا رستہ صاف کیا اور ترقی کے انتہائی عروج تک پہنچ گیا۔“ ( کرزن گزٹ دہلی یکم جون ۱۹۰۸ء) (٢) اس کے بعد سب سے پہلی بات جو میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرۃ کے