سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 83 of 315

سیرت طیبہ — Page 83

۸۳ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ وَعَلَى عَبْدِهِ الْمَسِيحِ الْمَوْعُوْدِ مَنْثُور ( یعنی چند بکھرے ہوئے موتی ) اَشْهَدُ أَنْ لا إلهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ گذشتہ سال کے سالانہ جلسہ میں جو دسمبر ۱۹۵۹ء کی بجائے جنوری ۱۹۶۰ء میں منعقد ہوا تھا مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام بانی سلسلہ احمدیہ کی سیرت کے بعض پہلوؤں پر ایک مضمون پڑھنے کی سعادت حاصل ہوئی تھی۔یہ مضمون جو بعد میں " کے نام سے چھپ چکا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرۃ کے تین بنیادی پہلوؤں سے تعلق رکھتا تھا یعنی اول محبت الہی دوم عشق رسول اور سوم شفقت علی خلق اللہ۔اور یہی وہ تین اوصاف ہیں جو ایک سچے مسلمان کے دین و مذہب کی جان اور اس کے اخلاق حسنہ کی بلند ترین چوٹی کہلانے کا حق رکھتے ہیں۔اس سال مجھے پھر مرکزی جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ کے منتظمین نے ذکر حبیب یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پاکیزہ سیرۃ کے متعلق کچھ بیان کرنے کی دعوت دی ہے اور گو اس سال کا آخری نصف حصہ میری رفیقہ حیات ام مظفر احمد کی طویل اور