سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 71 of 315

سیرت طیبہ — Page 71

اے (٢) حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا کے اخلاق فاضلہ اور آپ کی نیکی اور تقوی کومختصر الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں مگر اس جگہ میں صرف اشارہ کے طور پر نمونۂ چند باتوں کے ذکر پر اکتفاء کرتا ہوں۔آپ کی نیکی اور دینداری کا مقدم ترین پہلو نماز اور نوافل میں شغف تھا۔پانچ فرض نمازوں کا تو کیا کہنا ہے حضرت اماں جان نماز تہجد اور نماز ضحی کی بھی بے حد پابند تھیں اور انہیں اس ذوق وشوق سے ادا کرتی تھیں کہ دیکھنے والوں کے دل میں بھی ایک خاص کیفیت پیدا ہونے لگتی تھی۔بلکہ ان نوافل کے علاوہ بھی جب موقعہ ملتا تھا نماز میں دل کا سکون حاصل کرتی تھیں۔میں پوری بصیرت کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (فداہ فسی) کی یہ پیاری کیفیت کہ جُعِلَتْ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلوة (يعنی میری آنکھ کی ٹھنڈک نماز میں ہے ) حضرت اماں جان کو بھی اپنے آقا سے ورثے میں ملی تھی۔(۳) پھر دعا میں بھی حضرت اماں جان کو بے حد شغف تھا۔اپنی اولاد اور دوسرے عزیزوں بلکہ ساری جماعت کے لئے جسے وہ اولاد کی طرح سمجھتی تھیں بڑے درد و سوز کے ساتھ دعا فرمایا کرتی تھیں اور اسلام اور احمدیت کی ترقی کے لئے ان کے دل میں غیر معمولی تڑپ تھی۔