سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 38 of 315

سیرت طیبہ — Page 38

۳۸ (۱۴) محبت ہی کا کرشمہ تھی۔یہی وجہ ہے کہ اپنی عدیم المثال خدمات کے باوجود جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں تو ایک وفاشعارشاگرد اور ایک احسان مند خادم کی حیثیت میں اپنا ہر پھول آپ کے قدموں میں ڈالتے چلے جاتے ہیں اور بار بارعاجزی کے ساتھ عرض کرتے ہیں کہ آقا! یہ سب کچھ آپ ہی کی طفیل ہے میرا تو کچھ بھی نہیں۔چنانچہ ایک جگہ فرماتے ہیں میں اسی خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جیسا کہ اس نے ابراہیم سے مکالمہ مخاطبہ کیا۔اور پھر اسحاق سے اور اسمعیل سے اور یعقوب سے اور یوسف سے اور موسیٰ سے اور مسیح ابن مریم سے اور سب کے بعد ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہم کلام ہوا کہ آپ پر سب سے زیادہ روشن اور پاک وحی نازل کی۔ایسا ہی اس نے مجھے بھی اپنے مکالمہ ومخاطبہ کا شرف بخشا مگر یہ شرف مجھے محض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے حاصل ہوا اگر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت نہ ہوتا اور آپ کی پیروی نہ کرتا تو اگر دنیا کے تمام پہاڑوں کے برابر میرے اعمال ہوتے تو پھر بھی میں کبھی یہ شرف مکالمہ مخاطبہ ہرگز نہ پاتا۔“ (تجلیات الہیہ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۴۱۲،۴۱۱)