سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 294 of 315

سیرت طیبہ — Page 294

۲۹۴ لاریب حضرت مولوی صاحب کے علم اور اخلاص اور تقویٰ اور توکل اور اطاعت امام کا مقام بہت ہی بلند اور ہر لحاظ سے قابل رشک تھا۔دوسری مثال جیسا کہ میں اپنی سابقہ تقریر میں بھی تفصیل سے بیان کر چکا ہوں حضرت مولوی سید عبد اللطیف صاحب شہید کی ہے۔یہ بزرگ مملکت افغانستان کے رہنے والے تھے اور اس علاقہ کے چوٹی کے دینی علماء میں سے سمجھے جاتے تھے اور ساتھ ہی بڑے بااثر رئیس بھی تھے حتی کہ انہوں نے ہی امیر حبیب اللہ خان کی تاج پوشی کی رسم ادا کی تھی۔جب صاحبزادہ صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مسیح اور مہدی ہونے کا دعوئی سنا تو تحقیقات کے لئے قادیان آئے اور اپنے نورِ فراست سے آپ کو دیکھ کر اور آپ کے دعوی کو پہچان کر فوراً قبول کر لیا۔اُن کے واپس جانے پر کابل کے علماء نے ان کے متعلق کفر کا فتویٰ دیا اور واجب القتل قرار دے کر امیر کے پاس ان کے سنگسار کئے جانے کی سفارش کی۔چنانچہ اس فتویٰ کی بناء پر امیر حبیب اللہ خان نے آپ کو سنگسار کرنے کا حکم دے دیا، اس پر حضرت صاحبزادہ صاحب کو بڑے ظالمانہ طریق پر کمر تک زمین میں گاڑ دیا گیا اور امیر نے خود موقعہ پر جا کر ان کو آخری دفعہ سمجھایا کہ اب بھی وقت ہے کہ اس عقیدے سے باز آجائیں مگر وہ ایک پہاڑ کی طرح اپنے ایمان پر قائم رہے اور یہی کہتے ہوئے پتھروں کی بے پناہ بوچھاڑ میں جان دے دی کہ جس صداقت کو میں نے خدا کی طرف سے حق سمجھ کر دیکھا اور پہچانا ہے اسے کبھی نہیں چھوڑ سکتا۔‘ اور اس طرح بہت سے لوگوں کے بعد آنے کے باوجود خدا کی راہ میں آگے نکل گئے۔حضرت مسیح موعود ان کے متعلق