سیرت طیبہ — Page 280
۲۸۰ افترا کے ساتھ ہو اور نیز اس حالت پر بھی کہ مخلوق سے ڈر کر خالق کے امر سے کنارہ کشی کی جائے۔۔۔۔۔یقیناً سمجھو کہ میں نہ بے موسم آیا ہوں اور نہ بے موسم جاؤں گا۔“ اربعین حصہ سوم روحانی خزائن جلد ۷ ا ص ۴۰۱،۴۰۰) یہ وہ ایمان کامل اور یقین محکم ہے جو انبیاء کے دل پر آسمان کی بلندیوں سے نازل ہوتا ہے اور اس ایمان کو یہ زبردست طاقت حاصل ہوتی ہے کہ وہ پہاڑوں کو پاش پاش کرتا اور پانیوں کو چیرتا اور طوفانوں کو پھاند تا چلا جاتا ہے اور یہی وہ ایمان ہے جس میں خدا کی طرف سے دلوں کو فتح کرنے کی حیرت انگیز قوت ودیعت کی جاتی ہے۔(۱۷) اس جگہ میں جملہ معترضہ کے طور پر کچھ اپنے متعلق کہنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ ۱۹۶۲ ء قریباً تمام کا تمام میری صحت کی خرابی میں گزرا ہے۔اور بعض اوقات تو اس دوران میں میری صحت بہت زیادہ گر جاتی رہی ہے۔تین بیماریاں تو مجھے پرانی لگی ہوئی ہیں یعنی نقرس اور ہائی بلڈ پریشر اور ذیا بیطس جو تینوں کافی تکلیف دہ اور خطرناک ہیں۔اس کے علاوہ اکثر اوقات میری نبض بھی زیادہ تیز رہتی ہے جو گھبراہٹ اور بے چینی کا موجب ہوتی ہے۔مزید برآں ۱۹۶۲ ء کے آخر میں آکر مجھے دل کی تکلیف کا