سیرت طیبہ — Page 243
۲۴۳ سرانجام دے رہا ہے اور دنیا کی ہر قوم کے سنجیدہ طبقہ میں اسلام کی طرف توجہ پیدا ہورہی ہے۔اور یورپ اور امریکہ کے جو لوگ آج سے چالیس پچاس سال پہلے اسلام کی ہر بات کو شک اور اعتراض کی نظر سے دیکھتے تھے اب خدا کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں اور روحانی توجہ کے طفیل ایسا تغیر پیدا ہوا ہے کہ وہی لوگ اسلام کی تعلیم کو تعریف اور قدر شناسی کی نظر سے دیکھنے لگ گئے ہیں اور اسلام کا جھنڈا چارا کناف عالم میں اپنے نظریاتی اثر و رسوخ کے لحاظ سے بلند سے بلند تر ہوتا چلا جارہا ہے۔بے شک ابھی یہ ترقی الہی سنت کے مطابق صرف ایک پیج کے طور پر ہے مگر اس بیج کی اٹھان ایسی ہے کہ اہلِ عقل و دانش کی دور بین نگاہیں اس میں ایک عظیم الشان درخت کا نظارہ دیکھ رہی ہیں۔اور میسحیت جس نے اس سے پہلے گویا دنیا کی اجارہ داری سنبھال رکھی تھی اب اسلام کے مقابل پر برابر پسپا ہوتی چلی جارہی ہے۔چنانچہ براعظم افریقہ کے متعلق جو حضرت مسیح ناصری کے مٹادوں کا تازہ قلعہ بن رہا تھا۔بعض مسیحی مبصروں نے برملا تسلیم کیا ہے کہ اگرا افریقہ میں مسیحیت ایک انسان کو کھینچتی ہے تو اس کے مقابل اسلام دس لوگوں کو کھینچ کر لے جاتا ہے۔“ ( ورلڈ کرسچن ڈائجسٹ جون ۱۹۶۱ء) ی محض خدا کا فضل اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی روحانی توجہ اور درد بھری دعاؤں کا نتیجہ ہے کہ اس وقت جماعت احمدیہ کی حقیر کوششوں سے پاکستان اور ہندوستان کو چھوڑ کر صرف یورپ اور امریکہ اور افریقہ اور ایشیا کے بنتیں مختلف ملکوں