سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 238 of 315

سیرت طیبہ — Page 238

۲۳۸ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث میں امت محمدیہ کے لئے پیشگوئی فرمائی تھی کہ آخری زمانہ میں مسلمانوں میں مسیح ناصری کا ایک مثیل ایسے وقت میں ظاہر ہوگا جبکہ دنیا میں مسیحیت کا بڑا زور ہوگا اور نصرانیت تمام اکناف عالم میں غلبہ پاکر اپنے مشرکانہ عقائد اور مادی نظریات کا زہر پھیلا رہی ہوگی۔امت محمدیہ کا یہ مسیح اسلام کی طرف سے ہو کر مسیحیت کے باطل عقائد کا مقابلہ کرے گا اور اپنے روشن دلائل اور روحانی طاقتوں کے ذریعہ مسیحیت کے غلبہ کو توڑ دے گا۔چنانچہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ خدا ضرور ضرور اسی طرح مسلمانوں میں خلفاء بنائے گا جس طرح کہ اس نے اس سے پہلے (موسیٰ کی امت میں ) خلفاء بنائے اور ان خلفاء کے ذریعہ خدا اپنے دین کی حفاظت فرمائے گا اور (دین کے میدان میں ) مسلمانوں کی خوف کی حالت کو امن کی حالت سے بدل دے گا۔“ ( قرآن مجید۔سورۂ نور ) اسی طرح حدیث میں ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم تفصیل اور تشریح سے فرماتے ہیں۔دوست غور سے سنیں کہ کس شان سے فرماتے ہیں کہ مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم میں ضرور ضر ور مسیح ابن مریم اس شان سے کہ (گویا وہ آسمان سے اُتر رہا ہے ) جو حکم و عدل بن کر تمہارے اختلافات کا فیصلہ کرے گا اور وہ مسیحیت کے زور کے وقت میں ظاہر ہو کر صلیبی مذہب کی شوکت کو توڑ کر رکھ دے گا۔“ (صحیح بخاری کتاب احادیث الانبیاء باب نزول عیسی )