سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 228 of 315

سیرت طیبہ — Page 228

۲۲۸ نے اپنی جماعت کے متعلق فرمائی ہیں اور پھر ان بشارتوں کو جو خدا کی طرف سے حضور کو اپنی اولا د اور اپنی جماعت کے متعلق ملی ہیں بصورت احسن پورا فرمائے اور ہماری کوئی کمزوری ان خدائی بشارتوں کے پورا ہونے میں روک نہ بنے اور ہم سب خدا کے حضور سرخرو ہوں۔اُمِيْن يَا أَرْحَمَ الرّاحِمین۔(۲۱) میں نے ابھی ابھی بیان کیا ہے کہ اگر جماعت احمد یہ ایمان اور اخلاص اور قربانی کے مقام پر قائم رہے تو وہ خدا کے فضل سے ان تمام بشارتوں سے حصہ پائے گی جو خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنی خاص وحی کے ذریعہ جماعت کی آئندہ ترقی کے متعلق دی ہیں۔بے شک خدائی سنت کے مطابق درمیان میں بہت سے ابتلاء آئیں گے اور کئی قسم کے فتنے سر اٹھا ئیں گے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام بڑی تحدی کے ساتھ فرماتے ہیں کہ جولوگ آخر تک صبر اور استقلال سے کام لیں گے اور اپنی وفاداری میں کوئی رخنہ پیدا نہیں ہونے دیں گے وہ خدا کے فضل سے بالآخر کامیاب اور غالب ہوں گے اور یہ غلبہ ہمیشہ رہے گا یہاں تک کہ قیامت آجائے گی چنانچہ میں اس جگہ حضور کے رسالہ الوصیۃ سے ایک اقتباس پیش کرتا ہوں دوست غور سے سنیں کہ یہ الفاظ ایک طرح سے حضور کے آخری الفاظ ہیں جو جماعت کے لئے وصیت کے رنگ میں لکھے گئے۔حضور لکھتے ہیں خدا فرماتا ہے کہ میں اس جماعت کو جو تیرے پیرو ہیں قیامت تک