سیرت طیبہ — Page 208
۲۰۸ نسخہ منگوایا اور اسے ہاتھ میں لے کر یونہی جلد جلد اس کی ورق گردانی شروع کر دی اور پھر ایک ورق پر پہنچ کر فرمایا یہ لو حوالہ موجود ہے۔دیکھنے والے سب حیران تھے کہ یہ کیا ماجرا ہے کہ حضور نے کتاب کے صفحات پر نظر تک نہیں جمائی اور حوالہ نکل آیا۔بعد میں کسی نے حضرت مسیح موعود سے پوچھا کہ حضور یہ کیا بات تھی کہ حضور پڑھنے کے بغیر ہی صفح الٹتے گئے اور آخر ایک صفحہ پر رک کر حوالہ پیش کر دیا۔حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ جب میں نے کتاب ہاتھ میں لے کر ورق الٹانے شروع کئے تو مجھے یوں نظر آتا تھا کہ اس کتاب کے سارے صفحے بالکل خالی اور کورے ہیں اور ان پر کچھ لکھا ہوا نہیں اس لئے میں ان کو دیکھنے کے بغیر جلد جلد اُلٹاتا گیا۔آخر مجھے ایک ایسا صفحہ نظر آیا جس میں کچھ لکھا ہوا تھا اور مجھے یقین ہوا کہ خدا کے فضل ونصرت سے یہ وہی حوالہ ہے جس کی مجھے ضرورت ہے اور میں نے بلا توقف مخالف کے سامنے یہ حوالہ پیش کر دیا اور یہ وہی حوالہ تھا جس کا فریق مخالف کی طرف سے مطالبہ تھا۔(سیرۃ المہدی حصہ دوم۔روایت نمبر ۳۰۶ صفحه ۲۸۲ باختلاف الفاظ ) دوستو ! سنو اور غور کرو کہ ہمارے امام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی کیسی خارق عادت نصرت شاملِ حال تھی کہ جب مخالفوں کے ساتھ بحث کے دوران میں شماتت کا خطرہ پیدا ہوا تو ایک وفادار دوست اور مربی کے طور پر خدا تعالیٰ فوراً حضرت مسیح موعود کی مدد کو پہنچ گیا اور کشفی رنگ میں ایسا تصرف فرمایا کہ حضور کو کتاب کے سارے صفحے خالی نظر آئے اور صرف اسی صفحہ پر ایک تحریر نظر آئی جہاں مطلوبہ حوالہ درج تھا۔یہ باتیں اس بات کا قطعی اور یقینی ثبوت ہیں کہ اسلام کا خدا ایک زندہ ، جی و قیوم، قادر و متصرف خدا ہے جو اپنی غیر معمولی قدرت نمائی سے اپنے خاص بندوں کو اپنے اعجازی نشان