سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 205 of 315

سیرت طیبہ — Page 205

اللہ تعالیٰ نے مجھے ارشاد فرمایا ہے کہ آج تم عربی میں تقریر کرو۔تمہیں قوت دی گئی اور نیز یہ الہام ہوا۔كَلَامُ أَفْصِحَتْ مِنْ لَّدُنْ رَبِّ كَرِيمٍ۔( یعنی تمہاری اس تقریر میں خدائے کریم کی طرف سے فصاحت اور برکت عطا کی جائے گی ) ( تذکره ص ۳۵۷) چنانچہ پہلے عید کی نماز حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے پڑھائی اور اس کے بعد حضرت مسیح موعود نے ایک مختصر سا خطبہ اردو میں دیا جس میں خصوصیت کے ساتھ جماعت کو باہم اتفاق و اتحاد اور محبت کی نصیحت فرمائی اور پھر حضور نے حضرت مولوی نورالدین صاحب اور مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی کو اپنے قریب آکر بیٹھنے کے لئے ارشاد فرمایا اور فرمایا کہ ’اب جو کچھ میں بولوں گا وہ چونکہ خاص خدائی عطا سے ہے آپ لوگ اسے توجہ سے لکھتے جائیں تا کہ وہ محفوظ ہو جائے ورنہ بعد میں شاید میں خود بھی نہیں بتا سکوں گا کہ میں نے کیا کہا تھا۔“ ( اصحاب احمد جلد ۹ روایت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی) اس کے بعد حضور مسجد اقصیٰ قادیان کے درمیانی دروازہ میں ایک کرسی پر مشرق کی طرف منہ کر کے بیٹھ گئے اور عربی زبان میں اپنی تقریر شروع کی جس کا پہلا فقرہ یہ تھا کہ يَا عِبَادَ اللهِ فَكُرُوا فِي يَوْمِكُمْ هَذَا يَوْمَ الْأَضْحَى فَإِنَّهُ أُوْدِعَ اسْتَرَارًا 66 لأولى النهى " یعنی اے خدا کے بندو! اپنے اس دن کے معاملے میں غور کرو جو حج اور عید کی