سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 189 of 315

سیرت طیبہ — Page 189

۱۸۹ کا حامل ہوسکتا ہے مگر خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ اس نے اپنے قرآنی وعدہ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدین کلہ لے کے عالمگیر نشان کی ایک موٹی اور بد یہی علامت کے طور پر ایک وقت میں ہی سارے مذاہب کو اپنے مسیح محمدی کی خاطر ایک محاذ پر جمع کر دیا تا کہ دنیا بھر کے شکار ایک گولی کا نشانہ بن کر اسلام کے غلبہ کی متفقہ شہادت دے سکیں۔اس واقعہ کی تفصیل نہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مختلف کتابوں اور اشتہاروں میں آچکی ہے بلکہ خود اس مخلوط کمیٹی کی رپورٹ میں بھی درج ہے جو جلسہ اعظم مذاہب کے انتظام کے لئے مقرر ہوئی تھی اور مختلف مذاہب کے نمائندوں پر مشتمل تھی اور یہ ساری رپورٹیں ایک ہی حقیقت کی حامل ہیں اور وہ یہ کہ مذاہب عالم کے اس عظیم الشان جلسہ میں حضرت مسیح موعود کے مضمون کے ذریعہ اسلام کو ایسا غلبہ حاصل ہوا جو فی الواقعہ بے مثال تھا۔میں اس جگہ حضرت مسیح موعود کے قدیم صحابی حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کی روایت کا خلاصہ درج کرتا ہوں جس کے بعض حصے ابھی تک حقیقہ در مکنون ( یعنی غلافوں کے اندر چھپے ہوئے موتیوں ) کا رنگ رکھتے ہیں کیونکہ اس واقعہ کی عمومی اشاعت کے باوجود یہ مخصوص حصے ابھی تک زیادہ معروف نہیں ہیں۔حضرت بھائی صاحب بیان کرتے ہیں کہ ۱۸۹۶ء کے نصف آخر کا زمانہ تھا کہ اچانک ایک اجنبی انسان سادھو منش بھگوے کپڑوں میں ملبوس شوگن چندر نامی قادیان میں وارد ہوا۔شیخص ایک اچھے عہدے پر فائز رہ چکا تھا اور اب اپنی بیوی بچوں کے فوت ہو جانے کے بعد دنیا سے کنارہ کش ہو کر صداقت اور خدا کی تلاش میں ادھر یعنی مسیح محمدی کے زمانہ میں خدا اسلام کو سارے دینوں پر غالب کر کے دکھائے گا۔