سیرت طیبہ — Page 187
۱۸۷ ہوتے ورنہ نعوذ باللہ خدا پر اعتراض آتا ہے کہ اس نے اپنے وعدہ اور اپنی سنت کے خلاف کیا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں تمام دنیا کا وہی خدا ہے جس نے میرے پر وحی نازل کی جس نے میرے لئے زبردست نشان دکھلائے جس نے مجھے اس زمانہ کے لئے مسیح موعود کر کے بھیجا اس کے سوا کوئی خدا نہیں نہ آسمان میں نہ زمین میں جو شخص اُس پر ایمان نہیں لاتا وہ سعادت سے محروم اور خذلان میں گرفتار ہے۔ہم نے اپنے خدا کی آفتاب کی طرح روشن وحی پائی ہم نے اُسے دیکھ لیا کہ دنیا کا وہی خدا ہے اُس کے سوا کوئی نہیں کیا ہی قادر اور قیوم خدا ہے جس کو ہم نے پایا۔کیا ہی زبردست قدرتوں کا مالک ہے جس کو ہم نے دیکھا سچ تو یہ ہے کہ اُس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں مگر وہی جو اُس کی کتاب اور وعدہ کے برخلاف ہے سو جب تم دعا کرو تو اُن جاہل نیچریوں کی طرح نہ کرو جو اپنے ہی خیال سے ایک قانون قدرت بنا بیٹھے ہیں جس پر خدا کی کتاب کی مہر نہیں کیونکہ وہ مردود ہیں اُن کی دعائیں ہر گز قبول نہیں ہوں گی۔۔۔لیکن جب تو دعا کے لئے کھڑا ہو تو مجھے لازم ہے کہ یہ یقین رکھے کہ تیرا خدا ہر ایک چیز پر قادر ہے تب تیری دعا منظور ہوگی اور تو خدا کی قدرت کے عجائبات دیکھے گا جو ہم نے دیکھے ہیں۔“ کشتی نوح روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۱،۲۰) یاد رکھنا چاہیے کہ سنت اور وعدہ کی استثناء سے نعوذ باللہ خدا کی قدرتوں کی حد بندی مقصود نہیں کیونکہ اسلام اور احمدیت کی تعلیم کے مطابق خدا تعالیٰ کی قدرتیں حقیقتاً غیر محدود ہیں جن کا حصر ممکن نہیں بلکہ سنت اور وعدے کی مستثنیات سے