سیرت طیبہ — Page 173
۱۷۳ محبت کے ساتھ پیش کئے اور پھر دو اڑھائی میل پیدل چل کر بٹالہ کے رستہ والی نہر تک چھوڑنے کے لئے ان کے ساتھ گئے اور اپنے سامنے یکہ پر سوار کرا کے واپس تشریف لائے۔( اصحاب احمد جلد ۴) اس واقعہ میں دلداری اور انکساری اور اکرام ضیف اور جذبات اخوت کا جو بلند معیار نظر آتا ہے اس پر کسی تبصرہ کی ضرورت نہیں۔مگر میں اس موقعہ پر ربوہ کے افسر مہمان خانہ اور دیگر عملہ کوضرور توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ وہ اس لطیف روایت کو ہمیشہ اپنے لئے مشعل راہ بنا ئیں اور مرکز میں آنے والے مہمانوں کو خدائی مہمان سمجھ کر ان کے اکرام اور آرام کا انتہائی خیال رکھیں اور ان کی دلداری میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں اور مرکز کے مہمان خانہ کو ایک روحانی مکتب سمجھتے ہوئے اپنے آپ کو اس مکتب کا خادم تصور کریں اور اگر کسی مہمان کی طرف سے کبھی کوئی تلخ بات بھی سنی پڑے تو اسے کامل صبر اور ضبط نفس کے ساتھ برداشت کریں اور اپنے ماتھے پر بل نہ آنے دیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب تک زندہ رہے حضور نے لنگر خانہ کے انتظام کو ہمیشہ اپنے ہاتھ میں رکھا تا کہ انجمن کی طرف منتقل ہونے کے نتیجے میں کسی خدائی مہمان کو کوئی تکلیف نہ پہنچے اور مہمان خانہ کے دینی ماحول میں فرق نہ آنے پائے۔سو اب یہ مہمان خانہ جماعت کے ہاتھ میں ایک مقدس امانت ہے اور خدا تعالیٰ دیکھ رہا ہے کہ مرکزی کارکن اس امانت کو کس طرح ادا کرتے ہیں۔یہ امر خوشی کا موجب ہے کہ اب کچھ عرصہ سے مہمان خانہ کے انتظام میں کافی اصلاح ہے۔مگر ” نرخ بالا کن کہ ارزانی ہنوز ““