سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 147 of 315

سیرت طیبہ — Page 147

۱۴۷ ایک پرانے اور مخلص صحابی ہیں اے اور حضور کے ہاتھ پر ہندو سے مسلمان ہوئے تھے مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے آخری سفر میں لا ہور تشریف لے گئے اور اُس وقت آپ کو بڑی کثرت کے ساتھ قرب وفات کے الہامات ہورہے تھے تو اُن دنوں میں میں نے دیکھا کہ آپ کے چہرہ پر ایک خاص قسم کی ر بودگی اور نورانی کیفیت طاری رہتی تھی۔ان ایام میں حضور ہر روز شام کے وقت ایک قسم کی بند گاڑی میں جو فٹن کہلاتی تھی ہوا خوری کے لئے باہر تشریف لے جایا کرتے تھے اور حضور کے حرم اور بعض بچے بھی ساتھ ہوتے تھے۔جس دن صبح کے وقت حضور نے فوت ہونا تھا اُس سے پہلی شام کو جب حضور فٹن میں بیٹھ کر سیر کے لئے تشریف لے جانے لگے تو بھائی صاحب روایت کرتے ہیں کہ اُس وقت حضور نے مجھے خصوصیت کے ساتھ فرمایا کہ ”میاں عبد الرحمن ! اس گاڑی والے سے کہہ دیں اور اچھی طرح سمجھا دیں کہ اس وقت ہمارے پاس صرف ایک روپیہ ہے وہ ہمیں صرف اتنی دور تک لے جائے کہ ہم اسی روپے کے اندر گھر واپس پہنچ جائیں۔“ روایات بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی) چنانچہ حضور تھوڑی سی ہوا خوری کے بعد گھر واپس تشریف لے آئے مگر اُسی رات نصف شب کے بعد حضور کو اسہال کی تکلیف شروع ہوگئی اور دوسرے دن صبح دس بجے کے قریب حضور اپنے مولیٰ اور محبوب ازلی کے حضور حاضر ہو گئے۔لے افسوس! کہ اس رسالہ کی طباعت کے وقت حضرت بھائی قادیانی صاحب فوت ہو چکے ہیں۔منہ