سیرت طیبہ — Page 146
۱۴۶ بہت ہی زیادہ راحت بخش اور طمانیت انگیز ہوتی ہے بہ نسبت اس کے کہ کیسہ بھرا ہوا ہو۔“ الحکم جلد ۳ نمبر ۳۲ صفحه ۴، ۵ بحوالہ ملفوظات جلد۱) کیسہ تو اہلِ فقر کا اکثر خالی ہی رہتا ہے مگر حضرت مسیح موعود کے توکل کی شان ملاحظہ ہو کہ جس طرح ایک زیرک زمیندار اپنے بار بار کے تجربہ شدہ کنوئیں کے متعلق یقین رکھتا ہے کہ جب اس کا موجودہ پانی ختم ہونے پر آئے گا تو اس کے زیر زمیں سوتے خود بخود کھل جائیں گے اور کنواں پھر پانی سے بھر جائے گا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود کا دل اس یقین سے معمور تھا کہ ادھر میری جیب خالی ہوئی اور اُدھر آسمان کا غیبی ہاتھ اسے پھر بھر دے گا اور جو کام مجھے خدا نے سپرد کیا ہے اس میں روک پیدا نہیں ہوگی۔یہ وہی مقام نصرت ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو بالکل اوائل میں الہام فرمایا تھا کہ أَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ د یعنی کیا خدا اپنے بندے کے لئے کافی نہیں ؟“ حقیقت یہ ہے کہ یہ خدائی الہام شروع سے لے کر آخر تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر رحمت کا بادل بن کر چھایا رہا۔(۲۹) محترم بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی نے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے