سیرت طیبہ — Page 144
۱۴۴ (۲۷) ایک طرف تو حضرت مسیح موعود کو خدائی نصرت پر اتنا بھروسہ تھا کہ آگ میں پڑ کر سلامت نکل آنے کا یقین رکھتے تھے مگر دوسری طرف خدا کے رستہ میں ہر قربانی کے لئے اتنے تیار تھے کہ اُس کی خاطر ہر تکلیف کو راحت سمجھتے تھے چنانچہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم روایت کرتے ہیں کہ جس دن سپرنٹنڈنٹ پولیس حضرت مسیح موعود کے مکان کی تلاشی کے لئے اچانک قادیان آیا اور ہمارے نانا جان میر ناصر نواب صاحب مرحوم کو اس کی اطلاع ہوئی تو وہ سخت گھبراہٹ کی حالت میں حضرت مسیح موعود کے پاس بھاگے گئے اور غلبہ رقت کی وجہ سے بڑی مشکل کے ساتھ عرض کیا کہ سپر نٹنڈنٹ پولیس وارنٹ گرفتاری کے ساتھ ہتھکڑیاں لے کر آ رہا ہے۔حضرت مسیح موعود اس وقت اپنی کتاب ” نور القرآن“ تصنیف فرما رہے تھے سر اٹھا کر مسکراتے ہوئے فرمایا: ”میر صاحب ! لوگ دنیا کی خوشیوں میں چاندی سونے کے کنگن پہنا کرتے ہیں ہم سمجھیں گے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے رستہ میں لوہے کے کنگن پہن لئے “ پھر ذرا تامل کے ساتھ فرمایا:۔مگر ایسا نہیں ہوگا خدا تعالیٰ کی حکومت اپنے خاص مصالح رکھتی ہے۔وہ اپنے خلفائے مامورین کے لئے اس قسم کی رسوائی پسند نہیں کرتا۔“ الحکم جلد ۳ نمبر ۲۴ ص ۲،۱ بحوالہ ملفوظات جلداول)