سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 96 of 315

سیرت طیبہ — Page 96

۹۶ ایڈیٹر نے لکھا کہ :۔”مرزا صاحب اپنے آخری دم تک اپنے مقصد پر ڈٹے رہے اور ہزاروں مخالفتوں کے باوجود ذرا بھی لغزش نہ کھائی۔“ (رسالہ اندر لا ہور ) اسی طرح ایک عیسائی مصنف نے لکھا کہ :۔”مرزا صاحب کی اخلاقی جرات جو انہوں نے اپنے مخالفوں کی طرف سے شدید مخالفت اور ایذارسانی کے مقابلہ میں دکھائی یقیناً بہت قابل تعریف ہے۔“ (انگریزی رسالہ احمدیہ موومنٹ مصنفہ مسٹر ایچ۔اے والٹر ) اور ایک غیر احمدی مسلمان اخبار نے لکھا کہ :۔مرزا مرحوم نے مخالفتوں اور نکتہ چینیوں کی آگ میں سے ہو کر اپنا رستہ صاف کیا اور ترقی کے انتہائی عروج تک پہنچ گیا۔“ ( کرزن گزٹ دہلی) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ وصف جہاں ایک طرف آپ کے غیر معمولی صبر و استقلال پر شاہد ہے وہاں وہ اس بات کی بھی زبردست دلیل ہے کہ آپ کو اپنے بھیجنے والے خدا کی نصرت پر کامل بھروسہ تھا کہ جو پودا اس نے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے وہ اسے کبھی ضائع نہیں ہونے دے گا چنانچہ ایک جگہ فرماتے ہیں اے آنکہ سوئے من بدویدی بصد تبر از باغباں بترس که من شاخ مثمرم (ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۸۱) دد یعنی اے وہ جو میری طرف غصہ سے بھرا ہوا سو خنجر لے کر بھا گا آتا ہے تو آسمانی باغبان سے ڈر کہ میں اس کے اپنے ہاتھ کا لگا یا ہوا پھل دینے والا