سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ

by Other Authors

Page 45 of 99

سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 45

جائیں اور وہ بھی اللہ تعالیٰ کی عنایات اور اُس کے تفضلات کا مورد بن سکیں چنانچہ خدائے رحمن کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پہلی با برکت اور پر معارف وحی جس کا نزول غارِ حرا میں ہوا اُس میں دنیا کی رہنمائی نجات اور فلاح و بہبود کے لئے خدائے ذوالجلال کے حکم سے فرشتہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سورۃ العلق کی پانچ آیات کریمہ پڑھا ئیں جن میں نہایت ہی پر حکمت ارشادات ربانی بیان کئے گئے ہیں۔مثلاً : 1 - اقْر أبِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِی خَلَقَ۔اس آیت کریمہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے پیارے خالق و مالک حقیقی کا پیغام جو قرآن مجید کی پاکیزہ ارفع و اعلیٰ اور مکمل تعلیم کی شکل میں دیا جار ہا تھا۔دنیا کو پہنچانے کا حکم تھا اور تیرا رب کہ کر اپنے پیار و محبت کا اظہار بھی فرمایا کہ یہ ساری کائنات ہم نے تیرے لئے ہی مسخر کی ہے جیسا کہ حدیث قدسی ہے لَو لَاگ لِمَا خَلَقْتُ الافلاک۔( موضوعات کبیر صفحه ۵۹ مطبوعہ دہلی ) 2- خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ۔اس آیت کریمہ میں علق کے لفظ سے رب العالمین نے انسان کی پیدائش میں اپنے خالق حقیقی کی محبت و پیار اور قرب و تعلق حاصل کرنے کی طرف اشارہ فرمایا ہے تا کہ انسان ربوبیت ، رحمانیت ، رحیمیت اور مالکیت کی صفات پر غور کر کے اپنے رب کریم کی حمد کے ترانے گائے الحمد لله رب العالمین اور اُس کی صفات حسنہ کا مظہر بننے کی پوری پوری کوشش کر کے اُس کی رضا مندی کی جنت کو حاصل کرے۔وَرِضْوَانُ مِنَ اللَّهِ أَكْبَرُ - 3- اقْرَأَوَ رَبُّكَ الْاكْرَم۔اس آیت کریمہ میں قرآن حکیم کی ارفع و اعلیٰ بینظیر اور لاثانی ولا فانی پاکیزہ تعلیم کو رب کریم کے حکم اور اُس کے فضل و رحم کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لئے فرمایا گیا ہے جس کے لئے نئے سے نئے سامان خداوند کریم نے مہیا فرمانے کا اشارہ اگلی آیت کریمہ میں فرما دیا ہے۔اس آیت کریمہ کی تشریح حضرت مصلح موعودؓ نے اس طرح فرمائی ہے۔یعنی جتنا تو قرآن پڑھ کر لوگوں کو سنائے گا اُتنا ہی تیرے رب کا شرف اور انسان کا شرف ظاہر ہوگا۔( حاشیہ تفسیر صغیر صفحه ۱۰۴۸ مطبوعه ۲۰۰۶ قادیان) 45