سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ

by Other Authors

Page 84 of 99

سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 84

اور دونوں کے جذبات یکساں ہیں۔فتح مکہ کے موقعہ پر جب ایک کا فر کا نپتا ہوا آیا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ' گھبراؤ مت میں قریش کی اس عورت کا بیٹا ہوں جو سوکھا گوشت کھایا کرتی تھی۔“ لباب الاخیار صفحہ ۹۸ بحوالہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفحہ ۲۱۳) اس فقرہ میں جہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرْ مِثْلُكُمْ کے تحت اپنی عاجزی اور انکساری کا اظہار فرمایا وہاں عورت کی عزت و تکریم کو بھی قائم فرما دیا کہ وہ ماں ہونے کے لحاظ سے بلند مرتبہ رکھتی ہے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اہل وعیال سے جس بہترین سلوک کا اسوہ حسنہ ہمارے لئے قائم فرمایا اُس کے بارے میں پہلے کچھ تذکرہ کیا جا چکا ہے۔اب عورت کے متعلق بطور ماں، بیٹی، بیوی جن زریں اصولوں سے امت مسلمہ کوسرفراز فرمایا اور عورت کی عزت نفس کو قائم فرما یا اس کے بارے میں چند باتیں عرض خدمت ہیں۔یہاں پر یہ بھی عرض کرنا ضروری ہے کہ موجودہ زمانہ میں اسلام کی پاکیزہ تعلیمات کونہ سمجھنے کی وجہ سے جوشور بر پا ہے کہ عورت کو برابری کے حقوق دیئے جائیں وہ سراسر نا نہی ہے اسلام نے تو آج سے چودہ سو سال قبل عورت کے ہر لحاظ سے حقوق کی تعیین کر دی اور کوئی معاملہ ایسا نہیں چھوڑا جس میں تفصیل کے ساتھ عورت کے حقوق قائم نہ کر دیئے ہوں صرف تدبر اور تفکر کی ضرورت ہے۔و عورت کے حقوق بطور والدہ قرآن حکیم نے والدین کے متعلق حکم فرمایا : ۱ - وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا کہ ماں اور باپ کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔(بنی اسرائیل : ۲۴ تفسیر صغیر صفحه ۴۵۶) ۲ - وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ ہم نے انسان کو تاکید کی کہ وہ والدہ اور والد کے ساتھ حسن سلوک کیا کریں۔(لقمان: ۱۵ تفسیر صغیر صفحہ ۶۷۵)۔وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ اِحْسَانًا۔ہم نے انسان کو اپنے والدین ( یعنی ماں اور 84