سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ

by Other Authors

Page 85 of 99

سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 85

باپ ) سے احسان کرنے کی تعلیم دی۔(الاحقاف ۱۶ تفسیر صغیر صفحہ ۸۳۵) ۴- وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ اور انسان کو حکم ہے کہ رحم کے جزبات کے ماتحت ان کے سامنے عاجزانہ رویہ اختیار کر۔بنی اسرائیل: ۲۵ تفسیر صغیر صفحه ۴۵۶) ه فَلَا تَقُلْ لَهُمَا افَ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَولًا كَرِيمًا۔پس ان دونوں کو یعنی والدہ اور والد کو اُف تک نہ کہیں اور نہ انہیں جھڑ کیں بلکہ والدین سے ہمیشہ نرمی سے بات کیا کریں۔( بنی اسرائیل: ۲۴ تفسیر صغیر صفحه ۴۵۶) آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی قبلاً پیش کر چکا ہوں کہ ایک صحابی کے سوال پر آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار نیک کام کا جوارشادفرمایا وہ والدہ کی خدمت کرنے کا فرمایا اور چوتھی بار والد کی خدمت کرنے کا اور پھر درجہ بدرجہ رشتہ داروں کی خدمت کرنے کا ارشاد فرمایا: اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کو جہاں عورت سے حسن سلوک کا ارشاد فرمایا وہاں یہ بھی فرما یا الْجَنَّةُ تَحْتَ اَقْدَامِ أَمَهْتِكُمْ کہ اے مسلمانو! جنت تمہاری ماں کے قدموں کے نیچے ہے۔جس کا یہ مطلب ہے کہ ماں کی عزت قدر اور خدمت کر نا تم پر فرض ہے اگر یہ نیک کام کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی رضا کی جنت کو پالو گے اگر والدین کی خدمت نہیں کرو گے اور (ماسوا دین کے معاملے کے ) اُن کے احکام کی پیروی نہیں کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول لو گے۔اس فرمان میں عورت کے لئے بھی ایک اور پہلو کا شاندار طریقہ سے اظہار فرما دیا گیا کہ اولادکو جنت میں پہنچانے کے لئے اُن کی بہترین تعلیم تربیت ماں کا فریضہ ہے جب وہ اولاد کی صحیح تربیت کرے گی اور وہ نیک کام انجام دیں تو رضائے باری تعالیٰ کی جنت کو حاصل کر سکیں گے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے والدین تو بچپن ہی میں اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس تعلیم پر ایسا بہترین عمل کر کے دکھا یا جس کا بار بار ذکر احادیث مبارکہ میں آتا ہے۔حضرت اویس قرنی کے متعلق آتا ہے 85