سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 70
۵ - حضرت عبد اللہ بن ابوبکر بیان کرتے ہیں کہ ایک عرب نے ان سے ذکر کیا کہ جنگ حنین میں بھیٹر کی وجہ سے اُس کا پاؤں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں پر جا پڑا۔سخت قسم کی چپلی جو میں نے پہن رکھی تھی اُس کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پاؤں بری طرح زخمی ہو گیا۔حضور نے تکلیف کی وجہ سے ہلکا سا کوڑا مارتے ہوئے فرمایا: بسم اللہ تم نے میرا پاؤں زخمی کر دیا ہے اس سے مجھے بڑی ندامت ہوئی۔ساری رات میں سخت بے چین رہا کہ ہائے مجھے سے یہ غلطی کیوں ہوئی۔صبح ہوئی تو کسی نے مجھے آواز دی کہ حضور تمہیں بلاتے ہیں۔مجھے اور گھبراہٹ ہوئی کہ کل کی غلطی کی وجہ سے شاید میری شامت آئی ہے بہر حال میں حاضر ہوا تو حضور نے بڑی شفقت سے فرمایا کل تم نے میرا پاؤں کچل دیا تھا اور اس پر میں نے تمہیں ایک کوڑا ہلکا سا مارا تھا اُس کا مجھے افسوس ہے یہ اسی بکریاں تمہیں دے رہا ہوں یہ لو اور جو تکلیف تمہیں مجھ سے پہنچی ہے، اسے دل سے نکال دو۔حضو کی اس شفقت اور مشفقانہ انداز سے میری پریشانی کو دور کرنے پر میں حیران رہ گیا۔) (مسند دارمی باب فی سخا النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بحوالہ حدیقۃ الصالحین نیا ایڈیشن صفحہ ۳۱، ۳۲) آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ بہت بڑا اور بھاری احسان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غلامی کی لعنت کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا۔اس کا تذکرہ ایک طویل داستان ہے۔یہاں پر صرف غلاموں سے حسن سلوک کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چند ارشادات عالیہ پیش ہیں جن پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی ہمیشہ عمل پیرا ر ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غلاموں لونڈیوں سے ہر قسم کی پابندیاں اور ظلم و ستم ختم کرائے اور خود حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو غلام رکھنا ہی پسند نہ فرمایا بلکہ تریسٹھ غلام آزاد کئے اس بارے میں حضرت مصلح موعود تحریر فرماتے ہیں: غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کا آپ ہمیشہ ہی وعظ فرماتے رہتے آپ کا یہ ارشاد تھا کہ اگر کسی شخص کے پاس غلام ہو اور وہ اُس کو آزاد کرنے کی توفیق نہ رکھتا ہو تو اگر وہ کسی وقت غصہ میں اُس کو مار بیٹھے یا گالی دے تو اس کا کفارہ یہی ہے کہ اُس کو آزار کر دے (مسلم جلد ۲ کتاب 70