سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 49
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کے لئے نہیں بلکہ دنیا کی ساری قوموں اور قیامت تک آنے والے تمام لوگوں کے لئے ہے۔“ ( تفسیر کبیر جلد نہم صفحہ ۲۴۹) پھر فرماتے ہیں: لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پہلا فقرہ یہی نازل ہوتا ہے کہ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو دنیا کے سامنے اعلان کر اور اُسے بتا کہ اُسے اس کا خالق رب اپنی طرف بلاتا ہے اس طرح پہلے لفظ کے ذریعہ ہی اس حقیقت کو روشن کر دیا گیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام ساری دنیا کے لئے ہے اسود اور احمر اس پیغام کے مخاطب ہیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرض ہے کہ وہ تمام لوگوں تک اس پیغام کو پہنچائیں اور وہ لوگ جو آستانہ الہی سے بھٹک چکے ہیں اُن کو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف واپس لائیں۔اقر آ کے دوسرے معنی کسی لکھی ہوئی چیز کو پڑھنے کے ہوتے ہیں ان معنوں کے لحاظ سے اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِی خَلَقَ میں یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جو لکھی جائے گی اور پھر یہ کھی ہوئی کتاب بار بار پڑھی جائے گی چنانچہ اگر واقعات پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ قرآن دنیا میں وہ پہلی کتاب ہے جو ابتدائے نزول کے ساتھ ہی لکھی گئی ہے اس کے علاوہ دنیا میں اور جس قدر الہامی کتابیں پائی جاتی ہیں اُن میں سے کوئی ایک کتاب بھی ایسی نہیں جو نازل ہونے کے وقت ہی لکھ لی گئی ہو صرف قرآن کریم ہی ایک کتاب ہے جس کے متعلق یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ اُسے لکھا جائے گا اور اس طرح شروع سے ہی اُس کی حفاظت کا سامان کیا جائے گا اور وہ پیشگوئی حرف بہ حرف پوری بھی ہوگئی۔( تفسیر کبیر جلد نہم صفحہ ۲۴۹-۲۵۰) اقْرَأْ بِاسْمِ رنگ تو اپنے رب کے نام کے ساتھ دنیا میں کھڑا ہو اور اُن سے کہہ کہ مجھے ان باتوں کے پہنچانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اگر تم انکار کرو گے تو تم میرا انکار نہیں کرو گے بلکہ خدا کا انکار کرو گے جس نے مجھے بھیجا ہے اور جس کے نام کے ساتھ تمہارے سامنے میں اپنی رسالت کا اعلان کر رہا ہوں گور تک کا لفظ استعمال کر کے جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 49