سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 48
جذباتی طور پر : اقْرَأَبِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ۔ایسی اہمیت رکھنے والی آیات ہیں کہ جب انسان ان کو پڑھتا ہے اُس کے جسم پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے اور وہ کہتا ہے یہ وہ آیات ہیں جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے قرآن سے روشناس کرایا۔۔۔۔۔۔تو اللہ تعالیٰ کا وہ آخری کلام جس کے ذریعہ دنیا قیامت تک ہدایت پاتی رہے گی ، جس کے ذریعہ انسانی پیدائش کا مقصد پورا ہوا۔جس کے ذریعہ انسان کو اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوا جس کے ذریعہ خالق اور مخلوق کا تعلق آپس میں قائم کیا گیا اُس کی بنیاد جن آیات پر ہے ان کی اہمیت اور عظمت سے کون شخص انکار کر سکتا ہے جس طرح میاں بیوی شوق سے باہم ذکر کرتے ہیں کہ ہمارا نکاح کس طرح ہوا یا دوست شوق سے یہ ذکر کرتے ہیں کہ ہماری دوستی کا آغاز کس طرح ہوا اسی طرح اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ۔وہ الفاظ ہیں جن کو پڑھتے ہی انسان کا دل فرط محبت سے اچھلنے لگتا ہے اُس کی آنکھوں میں چمک پیدا ہو جاتی ہے، اُس کے خوابیدہ جذبات میں ایک حرکت پیدا ہو جاتی ہے اور وہ کہتا ہے یہ وہ آیات ہیں جن کے ذریعہ مجھے اپنے رب کا وصال حاصل ہوا۔جن کے ذریعہ انسان اور خدا کا باہمی رشتہ جوڑا گیا اور دوستی کا وہ آخری مرحلہ قائم کیا گیا جو خدا اور بندے کے درمیان ہونا چاہئے۔“ ( تفسیر کبیر جلد نهم ۲۲۶) اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِی خَلَقَ کی تفسیر میں حضور فرماتے ہیں: اثر اوہ پہلا لفظ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوا اور جس میں اسلام کے ظہور کے ساتھ ہی بعض عظیم الشان پیشگوئیوں کا اعلان کر دیا گیا۔اقراً کے اصل معنی گو کسی لکھی ہوئی چیز کے پڑھنے کے ہیں مگر اس کے ایک معنی اعلان کرنے کے بھی ہیں اور یہ دونوں معنے ایسے ہیں جو اس مقام پر نہایت عمدگی کے ساتھ چسپاں ہوتے ہیں۔اگر اثر آکے معنی اعلان کرنے کے لئے جائیں تو اِقْرَأَ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ کے یہ معنے ہوں گے کہ تو اس کتاب کا اعلان اپنے اُس رب کے نام کے ساتھ کر جس نے تجھے پیدا کیا۔اس لحاظ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ قرآن کریم وہ کتاب ہے جس میں پہلے دن ہی یہ خبر دے دی گئی ہے کہ یہ کلام محمد رسول 48