سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 47
5 - عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَالَمْ يَعْلَمْ۔اس آیت کریمہ میں بھی اللہ جل شانہ نے پیشگوئی فرمائی ہے کہ ہم قرآن حکیم کے ذریعہ سے انسان کو وہ کچھ سکھلائیں گے جو آج تک اُس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا اور نہ ہی کسی شریعت یا کسی دنیاوی علم کے ذریعہ سے ایسی پر حکمت باتیں سکھلائی گئی تھیں چنانچہ قرآن حکیم میں ہر قسم کے علوم اعلیٰ ارفع اور اکمل طور پر بیان ہوئے ہیں جن کا پہلی کتب میں ذکر بھی نہیں ملتا اس سے قرآن حکیم کی عظمت بھی ظاہر ہوگی اور دوسری سب تعلیموں پر فضیلت بھی ثابت ہوگی۔پس الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُم دِيْنَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيْتُ لَكُمْ الْإِسْلَامَ دِينًا۔(المائدہ:۴) کہہ کر یہ بات دنیا پر روزِ روشن کی طرح آشکار بھی کر دی کہ ہماری پیشگوئی پوری بھی ہوگی اور ہم نے مکمل نظام شریعت یعنی اسلام کی نعمت قرآن کریم کے ذریعہ سے تمہیں عطا فرما دیا۔اور علوم و حکمت کے وہ خزائن جو رہتی دنیا تک کے لئے انسان کے لئے ضروری تھے قرآن کریم کے ذریعہ عطا کر دیئے گئے اور مطھرون کے ذریعہ سے اُن کی پاکیزہ تشریحات پاؤ نہ تعالیٰ دنیا میں ظاہر ہوتی رہیں گی۔مندرجہ بالا پانچ آیات کریمہ کے ذریعہ سے جن انوار و برکات کے دنیا میں ظاہر ہونے کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسلام کی جو جامع تعلیم عطا کئے جانے کے بارے میں حضرت مصلح موعودؓ نے جو لطیف تفسیر اور تشریح تحریر کی ہے قابل ذکر ہے۔اُس کے کچھ اقتباسات پیش خدمت ہیں تاکہ معلوم ہو جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خدائے رحمن نے پہلی وحی میں ہی کن پاکیزہ علوم سے نوازتے ہوئے اپنا پیغام دنیا میں پہنچانے کی بھاری ذمہ داری آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سپرد کی تھی۔حضور رضی اللہ تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں: وو یہ پہلی رحمت ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو نوازا اور پہلی نعمت ہے جس سے اُس نے اپنے فضل سے انہیں حصہ عطا فر ما یا پس اس سورۃ کی ابتدائی آیات اس لحاظ سے خاص طور پر اہمیت رکھتی ہیں کہ یہ قرآن کریم کے لئے بمنزلہ بیج اور گٹھلی کے ہیں اور ان آیات کے نزول کے بعد باقی قرآن نازل ہوا ہے یوں تو سارا قرآن ہی اہمیت رکھتا ہے مگر 47