سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 46
4- الَّذِی عَلَّمَ بِالْقَلَمِ۔اس آیت کریمہ میں اللہ جل شانہ نے پیشگوئی فرمائی کہ اب قرآنی علوم قلم کے ذریعہ سے دنیا میں اشاعت پذیر ہوں گے اور قرآنی انوار اور علوم ومعارف کا وہ بحر ذخارجس کے لئے سات سمندروں کی سیاہی اور تمام روئے زمین کے درختوں کی قلمیں بھی نا کافی ہوں گی خواہ سات سمندر سیاہی کے اور بھی ملا دیئے جائیں اس کے روئے زمین پر پھیلا دینے کے لئے ایسے نئے سے نئے سامان اور ایسی ایسی ایجادات کرنے کی انسان کو صلاحیت بخشے گا کہ دنیا حیرت میں پڑ جائے گی اور اُس دن رب رحمن ورحیم کے خاص فضل و کرم سے یہ نظارہ دنیا کی آنکھوں کے سامنے ہوگا۔يَوْمَئِذٍ يَتَّبِعُوْنَ الدَّاعِيَ لَا عِوَجَ لَهُ ۚ وَخَشَعَتِ الْأَصْوَاتُ لِلرَّحْمَنِ فَلَا تَسْمَعُ إِلَّا هَمْسًا (طه : ۱۰۹ تفسیر صغیر صفحه ۵۲۲) ترجمہ: اُس دن لوگ پکارنے والے کے پیچھے چل پڑیں گے جس کی تعلیم میں کوئی کبھی نہ ہوگی پس تو سوائے کھسر پھسر کے کچھ نہ سنے گا۔اور وَأَشْرَقَتِ الْأَرْضُ بِنُورِ رَبِّهَا - ( الزمر : ۷۰ تفسیر صغیر صفحہ ۷۷۲) ترجمہ: اور زمین اپنے رب کے نور سے روشن ہو جائے گی۔اور قرآن کریم کا ذكر للعلمین (التکویر : ۲۸ تفسیر صغیر صفحه ۱۰۱۲) یعنی دنیا کے لئے عزت اور شرف کا موجب ہونا اور خدا تعالیٰ سے تعلق کے لئے یہی واحد راستہ ہونا روز روشن کی طرح عیاں ہو جائے گا۔نیز قرآن حکیم کا إِنَّهُ لَقَوْل فَضل ( الطارق : ۱۴) یعنی یقینا قطعی اور آخری بات ( جو کہ علم و حکمت کے خزائن سے پر ہے ) ثابت ہو جائے گا۔عَلَمَ بِالْقَلَمِ کے بارہ میں ہی دوسری جگہ ارشادر بانی ہے: وَإِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ۔(التکویر : ۱۱ تفسیر صغیر صفحه ۱۰۱۱) چنانچہ دیکھ لیجئے قرآن کریم کی اور اسلام کی اشاعت میں ریل / تارر ڈاک رہوائی جہاز بحری جہاز ریڈیو وائرلیس رٹیلی ویژن رٹیپ ریکارڈر کمپیوٹر اور قسم قسم کے جدید پریس اور فوٹو گرافی وغیرہ لگے ہوئے ہیں اور خدا جانے مزید بھی کون کون سی نئی نئی ایجادات ظہور پذیر ہوں گی۔46