سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ

by Other Authors

Page 39 of 99

سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 39

السلام کی ایک تحریر پیش کی جاچکی ہے۔آپ علیہ السلام ہی کی ایک دوسری روح پرور اور وجد یہ آفریں تحریر ملاحظہ ہو۔حضور فرماتے ہیں: ”جو اخلاق فاضلہ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا قرآن شریف میں ذکر ہے وہ حضرت موسیٰ سے ہزار ہا درجہ بڑھ کر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے کہ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تمام ان اخلاق فاضلہ کا جامع ہیں جو نبیوں میں متفرق طور پر پائے جاتے تھے اور نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں فرمایا ہے : انگ لَعَلٰی خُلُق عَظیم (القلم : ۵) توخلق عظیم پر ہے اور عظیم کے لفظ کے ساتھ جس چیز کی تعریف کی جائے وہ عرب کے محاورہ میں اُس چیز کے انتہائے کمال کی طرف اشارہ ہوتا ہے مثلاً اگر یہ کہا جائے کہ یہ درخت عظیم ہے تو اس سے یہ مطلب ہوگا کہ جہاں تک درختوں کے لئے طول وعرض اور تناوری ممکن ہے وہ سب اس درخت میں حاصل ہے۔ایسا ہی اس آیت کا مفہوم ہے کہ جہاں تک اخلاق فاضلہ و شمائل حسنہ نفس انسانی کو حاصل ہو سکتے ہیں وہ تمام اخلاق کاملہ تامہ نفس محمدی میں موجود ہیں سو یہ تعریف ایسی اعلیٰ درجہ کی ہے جس سے بڑھ کر ممکن نہیں۔براہین احمدیہ حصہ چہارم روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۰۶ حاشیہ نمبر ۳) آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق فاضلہ کی ایک اور شاندار دلیل یہ بھی دی اور فرمایا: آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جس قدر اخلاق ثابت ہوئے ہیں وہ کسی اور نبی کے نہیں کیونکہ اخلاق کے اظہار کے لئے جب تک موقعہ نہ ملے کوئی خلق خلاق ثابت نہیں ہوسکتا۔مثلاً سخاوت ہے لیکن اگر روپیہ نہ ہو تو اس کا ظہور کیونکر ہو۔ایسا ہی کسی کو لڑائی کا موقع نہ ملے تو شجاعت کیونکر ثابت ہو۔ایسا ہی عفو، اس صفت کو وہ ظاہر کر سکتا ہے جسے اقتدار حاصل ہو۔غرض سب خلق موقع سے وابستہ ہیں اب سمجھنا چاہئے کہ یہ کس قدر خدا کے فضل کی بات ہے کہ آپ کو تمام اخلاق کے اظہار کے موقعے ملے “ (الحکم ۳۱ جولائی ۱۹۰۲ء صفحہ ۸،۷) 39