سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 34
وسلم کی پاکیزہ تعلیم نے صحابہ پر ایسا اثر کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عاشق صادق امام مہدی علیہ السلام نے کیا خوب فرمایا: جَاءَ وَكَ مَنْهُوبِينَ كَالْعُرْيَانِ فَسَتَرْتَهُمْ بِمَلَاحِفِ الْإِيْمَانِ صَادَفَتَهُمْ قَوْمًا كَرَوْثٍ ذِلَةً فَجَعَلْتَهُمْ كَسَبِيْكَةِ الْعِقْيَانِ (القصيده صفحه ۱۶) ترجمہ: ” وہ آپ کے پاس لئے بیٹے اور روحانی لحاظ سے ننگے لوگوں کی مانند آئے۔پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن کو ایمان و تقومی کے لحاف اور چادر میں اوڑھا دیں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عربوں کو اُن کے گناہوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے گوبر کی مانند ذلیل قوم پایا مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی قوت قدسیہ سے اُن کو خالص سونے کی ڈلی مانند بنا دیا۔“ ایک اور حدیث شریف میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیم کی ایک ہلکی سی جھلک اس طرح دکھائی گئی ہے اور حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ”اے بادشاہ! ہمارا یہ حال ہے کہ ہم جہالت اور گمراہی کے گڑھے میں رہ رہے تھے ہم بتوں کی پوجا کرتے تھے گندی فحش باتیں بکتے تھے مُردار کھایا کرتے تھے ہم میں کوئی انسانیت کی خوبی نہ تھی خداوند تعالیٰ نے جس کا فضل تمام جہان پر چھایا ہوا ہے محمد گو( اس پر اللہ کی رحمت اور سلامتی ہو ) ہمارے لئے رسول کر کے بھیجا۔اُس کی شرافت نسب اور راست گفتاری ،صفا باطنی اور دیانت داری سے ہم خوب آگاہ ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنی مرضی ظاہر فرمائی اور وہ اللہ کا پیغام لے کر ہمارے پاس آیا کہ صرف ایک خدا پر ایمان رکھو اور اس کی صفات اور ذات میں اور کسی کو شریک مت کرو۔اور بتوں کی پرستش مت کرو راست گفتاری اپنا شعار ٹھہراؤ امانت میں کبھی خیانت نہ کرو۔اپنے تمام ابنائے جنس سے ہمدردی رکھو۔پڑوسیوں کے حقوق کی نگہداشت کرو۔34