سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 25
بدکاریوں اور خرابیوں سے متنفر ہو کر مکہ سے دوتین میل کے فاصلہ پر ایک پہاڑی کی چوٹی پر ایک پتھروں سے بنی ہوئی چھوٹی سی غار میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے لگ گئے۔حضرت خدیجہ چند دن کی غذا آپ کے لئے تیار کر دیتیں آپ وہ لے کر غار حرا میں چلے جاتے تھے اور اُن دوتین پتھروں کے اندر بیٹھ کر خدا تعالیٰ کی عبادت میں رات اور دن مصروف رہتے تھے۔(دیباچه تفسیر القرآن صفحه ۱۱۳) آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدا تعالیٰ سے محبت اور عشق کی داستان حضرت مصلح موعود اس طرح بیان فرماتے ہیں: ”رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی عشق الہی میں ڈوبی ہوئی نظر آتی ہے باوجود بہت بڑی جماعتی ذمہ داری کے دن اور رات آپ عبادت میں مشغول رہتے تھے نصف رات گزرنے پر آپ خدا تعالیٰ کی عبادت کے لئے کھڑے ہو جاتے اور صبح تک عبادت کرتے چلے جاتے یہاں تک کہ بعض دفعہ آپ کے پاؤں سوج جاتے تھے اور آپ کے دیکھنے والوں کو آپ کی حالت پر رحم آتا تھا حضرت عائشہ کہتی ہیں ایک دفعہ میں نے ایسے ہی موقعہ پر کہا یا رسول اللہ آپ تو خدا تعالیٰ کے پہلے ہی مقرب ہیں آپ اپنے نفس کو اتنی تکلیف کیوں دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا اے عائشہ! أَفَلَا اكُونُ عَبْدًا شَکورا۔جب یہ بات سچی ہے کہ خدا تعالیٰ کا میں مقرب ہوں اور اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل کر کے مجھے اپنا قرب عطا فرمایا ہے تو کیا میرا یہ فرض نہیں کہ جتنا ہو سکے میں اُس کا شکر یہ ادا کروں کیونکہ آخر شکر احسان کے مقابل پر ہی ہوا کرتا ہے۔آپ کوئی بڑا کام بغیر اذن الہی کے نہیں کرتے تھے چنانچہ آپ کے حالات میں لکھا جا چکا ہے کہ باوجود مکہ کے لوگوں کے شدید ظلموں کے آپ نے مکہ اُس وقت تک نہ چھوڑا جب تک کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ پر وحی نازل نہ ہوئی اور وحی کے ذریعہ سے آپ کو مکہ چھوڑنے کا حکم نہ دیا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔خدا کا کلام آپ سنتے تو بے اختیار ہو کر آپ کی آنکھوں میں آنسو آجاتے خصوصا وہ آیات جن میں آپ کو اپنی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔نماز کی پابندی کا آپ کو اتنا خیال تھا کہ سخت بیماری کی حالت میں جب کہ خدا 25