سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ

by Other Authors

Page 17 of 99

سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 17

سوخدا نے توریت میں موسیٰ کی بُردباری کی ایسی تعریف کی جو بنی اسرائیل کے تمام نبیوں میں سے کسی کی تعریف میں یہ کلمات بیان نہیں فرمائے ہاں جو ا خلاق فاضلہ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا قرآن شریف میں ذکر ہے وہ حضرت موسیٰ سے ہزار ہا درجہ بڑھ کر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے کہ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تمام ان اخلاق فاضلہ کا جامع ہے جو نبیوں میں متفرق طور پر پائے جاتے تھے اور نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں فرمایا ہے۔انگ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِیم ( سورۃ القلم : ۵ ) تو خُلق عظیم پر ہے۔۔۔۔۔۔ایسا ہی اس آیت کا مفہوم ہے کہ جہاں تک اخلاق فاضلہ و شمائل حسنہ نفس انسانی کو حاصل ہو سکتے ہیں وہ تمام اخلاق کاملہ تامہ نفس محمدی میں موجود ہیں۔سو یہ تعریف ایسی اعلیٰ درجہ کی ہے جس سے بڑھ کر ممکن نہیں اور اسی کی طرف اشارہ ہے جو دوسری جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں فرمایا: وَكَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا (سورۃ النساء : ۱۱۴) یعنی تیرے پر خدا کا سب سے زیادہ فضل ہے اور کوئی نبی تیرے مرتبہ تک نہیں پہنچ سکتا۔۔66 (براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلدا ،صفحہ ۶۰۶ بقیه حاشیه در حاشیه ۳) ”ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام انبیاء کے نام اپنے اندر جمع رکھتے ہیں۔کیونکہ وہ وجود پاک جامع کمالات متفرقہ ہے پس وہ موسی بھی ہے اور عیسی بھی اور آدم بھی اور ابراہیم بھی اور یوسف بھی اور یعقوب بھی۔اسی کی طرف اللہ جل شانہ اشارہ فرماتا ہے۔فَبهذىهُمُ اقْتَدِه (سورۃ الانعام ۹۱ ) یعنی اے رسول اللہ تو ان تمام ہدایات متفرقہ کو اپنے وجود میں جمع کر لے جو ہر یک نبی خاص طور پر اپنے ساتھ رکھتا تھا۔پس اس سے ثابت ہے کہ تمام انبیاء کی شانیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں شامل تھیں اور در حقیقت محمد کا نام صلی اللہ علیہ وسلم اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے کیونکہ محمد کے یہ معنی ہیں کہ بغایت تعریف کیا گیا اور غایت درجہ کی تعریف تبھی متصور ہو سکتی ہے کہ جب انبیاء کے تمام کمالات متفرقہ اور صفات خاصہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں جمع ہوں۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۳۴۳) سچ تو یہی ہے کہ : 17