سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 8
ہے۔وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ (سورة الانبياء : ۱۰۸) ( ملفوظات جدید ایڈیشن ، جلد اول، صفحہ ۷۷) آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جامعیت، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بلند مقام ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برتری یعنی آپ کا سیڈ ہونا۔یعنی تمام جہانوں کے سردار۔آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فضل الرسل ہونا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقام محمود پر فائز کیا جانا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قرب خداوندی کا مقام اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا كافة للناس ہونا یعنی تمام دنیا کے لئے مبعوث کیا جانا۔ان باتوں سے قرآن کریم اور احادیث مبارکہ بھری پڑی ہیں۔ایک پیاری حدیث پیش خدمت ہے۔جس میں خود حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی جامعیت اور پانچ خصوصیات کا ذکر فرمایا ہے: حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے پانچ ایسی باتیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی اور نبی کو عطا نہیں ہوئیں۔اول مجھے ایک مہینے کی مسافت کے اندازے کے مطابق خدا دا در عب عطا کیا گیا ہے۔دوسرے میرے لئے ساری زمین مسجد اور طہارت کا ذریعہ بنادی گئی ہے۔تیسرے میرے لئے جنگوں میں حاصل شدہ مال غنیمت جائز قرار دیا گیا ہے، حالانکہ مجھ سے پہلے وہ کسی کے لئے جائز نہیں تھا۔چوتھے مجھے خدا تعالیٰ کے حضور شفاعت کا مقام عطا کیا گیا ہے اور پانچویں مجھ سے پہلے ہر نبی صرف اپنی خاص قوم کی طرف مبعوث ہوتا تھا لیکن میں ساری دنیا اور سب قوموں کے لئے مبعوث کیا گیا ہوں۔(چالیس جواہر پارے، صفحہ ۱۹ مرتبہ قمر الانبیاء حضرت مرزا بشیر احمد صاحب) آپ کی پانچویں خصوصیت کی تشریح کرتے ہوئے قمر الانبیاء حضرت مرزا بشیر احمد صاحب تحریر فرماتے ہیں: 8