فرائض سیکریٹریان — Page 28
28 () مرکز نے آمد و خرچ کے حساب رکھنے کا جو طریق کار مقرر کیا ہے اس کی پابندی کروانا اور اگر اس کے علاوہ کوئی اور طریق کار اختیار کرنا ہو تو اس کے بارہ میں مشورہ دے کر مرکز سے منظوری حاصل کرنا۔() اس کمیٹی کو تمام مشورہ طلب امور میں صرف مالی و حسابی نگاہ سے رائے دینے کا اختیار ہوگا۔انتظامی پہلو سے دخل نہیں دے سکے گی۔(7) کمیٹی کا فرض ہوگا کہ اگر کوئی ایسا حسابی و مالی معاملہ اس کے نوٹس میں آئے جس میں سلسلہ کے مفاد میں رائے دینی مناسب ہو تو وہ از خود اپنی رائے امیر یا صدر کے توسط سے مجلس عاملہ میں پیش کر سکے گی۔(ہی) مجلس عاملہ یا امیر جماعت یا صدر جماعت کسی بھی سلسلہ میں کوئی بھی کمیٹی بنا سکتے ہیں لیکن وہ کمیٹی مشورہ کی حد تک محدود ہوتی ہے۔کوشش کرنی چاہئے کہ امارت کی صورت میں بھی مجلس عاملہ کے ذریعہ کثرت رائے سے ہی فیصلہ کیا جائے۔ہیں) اگر کوئی شخص کسی عہدیدار کے فیصلہ کے خلاف امیر کے پاس اپیل کرے تو جلد فیصلہ کرے اور اگر وہ مرکز میں بھجوانے پر مصر ہو تو اس کو مقامی سطح پر نہ روکا جائے۔لیکن جب تک مرکز سے فیصلہ نہ آجائے مقامی نظام کا فیصلہ قابل تعمیل ہوگا۔وہ اس معاملہ کو خلیفتہ اسیح کی خدمت میں بھی پیش کر سکتا ہے۔کسی بھی صورت میں جب تک حکم امتناعی نہ آئے یا فیصلہ نہ ہو جائے اس وقت تک سابقہ حکم یا ہدایت قابل تعمیل ہوگی۔( ) کوئی بھی عہد یدار اسی وقت تک عہدیدار ہوتا ہے جب تک اس کو مرکزی نظام کی طرف سے اس عہدہ پر قائم رکھا جائے۔