فرائض سیکریٹریان — Page 14
14 خلیفہ وقت کے نمائندے کے طور پر اپنے اپنے علاقہ میں متعین ہیں اور ان سے یہی امید کی جاتی ہے اور یہی تصور ہے کہ وہ خلیفہ وقت کے نمائندے ہیں۔(خطبه جمعه ۵ دسمبر ۲۰۰۳ء) 7 نظام جماعت کی ذمہ داری ادا کرتے وقت اپنی انا ؤں اور خواہشات کو مکمل ختم کر کے خدمت سر انجام دینے کی طرف توجہ کرنے کی زیادہ ضرورت ہے اور پہلے سے بڑھ کر ضرورت ہے۔ذراذراسی بات پر غصہ میں آجانے کی عادت کو عہدیداران کو ترک کرنا ہوگا اور کرنا چاہئے۔جماعت کے احباب سے پیار، محبت کے تعلق کو بڑھانے ، ان کی باتوں کو غور اور توجہ سے سننے اور ان کیلئے دعا میں کرنے کی عادت کو مزید بڑھانا چاہئے۔تبھی سمجھا جا سکتا ہے کہ عہدیداران اپنی ذمہداریاں مکمل طور پر ادا کر رہے ہیں یا کم از کم ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔(خطبه جمعه ۵ دسمبر ۲۰۰۳ء) + 8 اگر اصلاح کی خاطر کسی بڑے آدمی کے خلاف بھی کاروائی کرنی پڑے تو کریں اور اس بات کی قطعا کوئی پرواہ نہ کریں کہ اس کے کیا اثرات ہوں گے۔اگر فیصلے تقومی پرمینی اور نیک نیتی سے کئے گئے ہیں تو یا درکھیں اللہ تعالیٰ کی تائید اور نصرت ہمیشہ آپ کے شامل حال رہے گی۔+96 ( خطبہ جمعہ یکم جولائی ۲۰۰۵ء) پس جب عہدیداران پر خلیفہ وقت نے اعتماد کیا ہے اور ان سے انصاف کے ساتھ اپنے فرائض ادا کرنے کی امید رکھی ہے۔کیونکہ ہر جگہ تو خلیفہ وقت کا ہر فیصلہ کیلئے پہنچنا مشکل ہے ممکن ہی نہیں ہے تو عہدیداران جن میں قاضی صاحبان بھی ہیں، دوسرے عہد یداران بھی ہیں اپنے فرائض انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ادا نہیں کرتے تو پھر اللہ کی گرفت کے نیچے آتے ہیں۔میرے نزدیک وہ دو ہرے گنہگار ہورہے ہوتے ہیں۔دوہرے گناہ کے مرتکب