مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 89 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 89

165 164 میں عبرانی اور عربی میں موجود ہیں۔اس کے علاوہ امپیریل لائبریری، پیرس اور آکسفورڈ کی با ڈلین (Bodlean) لائبریری میں اس کی تصنیفات کے نسخے عبرانی رسم الخط میں محفوظ ہیں۔کہا جاتا ہے کہ عبرانی میں توریت کے بعد ابن رشد کی تصنیفات سے زیادہ کسی اور عالم کی کتابوں کی اتنی کثیر اشاعت نہیں ہوئی۔عربی میں موسیٰ ابن میمون ( 1204 Maimonides ) کے علمی شاہکار کا نام دلالة الحیربین ہے۔اس عالم نے اپنی تمام کتابیں ماسوامشثناء تو را، عربی میں تصنیف کیں اور سب کی سب لاطینی میں ترجمہ ہوئیں۔اس کے فلسفیانہ افکار سے اسپینوزا (1677 Spinoza) اور جرمن فلسفی کانٹ بہت متاثر تھے۔اس نے جالینوس کی اکیس کتابوں کے خلاصے لکھے۔اس نے فلسفے کا علم مسلمان فلسفیوں کی کتابوں کو پڑھ کر حاصل کیا۔دلالتہ الحیربین میں اس نے گونا گوں موضوعات پر قلم اٹھایا جیسے خدا اور فطرت ، قضاوقدر، نیکی اور بدی۔اس نے کہا کہ انسان خدا کے بارے میں یقین کے ساتھ کچھ نہیں جان سکتا۔وہ صرف یہ کر سکتا ہے کہ خدا کے بارے میں کہے کہ خدا کیا نہیں ہے ( What God is not)۔اس نے بائبل کی بہت ساری آیات کی لفظی کے بجائے تمثیلی تفسیر کی۔1958ء میں یونیسکو کے زیر اہتمام اس کی 850 ویں سالگرہ منائی گئی اور ایک کا نفرنس کا اہتمام کیا گیا۔ٹائم میگزین کے 23 دسمبر 1985ء کے شمارے میں ایک مضمون نگار نے اس کو قرون وسطی کا سب سے اثر انگیز مفکر قرار دیا۔محی الدین ابن العربی (1240-1165 ء ) عالم اسلام کے سب سے عظیم صوفی فلسفی تھے جن کا لقب الشیخ الاکبر تھا۔انہوں نے 200 سے زائد رسائل اور کتابیں لکھیں جن میں سے بعض کتابوں کے صفحات ایک ہزار سے زیادہ تھے۔ان کی کتاب فتوحات مکیہ کے ایک ایک لفظ میں معرفت کا سمندر موجیں مار رہا ہے۔فلسفے پر ان کی کتاب فصوص الحکم“ کا ترجمہ لندن سے 1980ء میں دی بیرلس آف وزڈم(The Bezels of Wisdom) شائع ہوا تھا۔اس کتاب پران کے بہت سے مداح ایک سو سے زیادہ شرحیں اور تفاسیر لکھ چکے ہیں۔انہوں نے تصوف اور فلسفے میں اتحاد کی کوشش کی۔تصوف پر ان کا اثر دیر پا تھا اور اب تک محسوس کیا جاتا ہے [45]۔ان کی چند دیگر تصانیف یہ ہیں: الافہام ، اربعین، البحر المحیط ، کشف الاسرار ( تفسیر میں جلدوں میں)، السر المكتوم، جلاء القلوب، رسالة في مابينه القلوب، مراتب القلوب۔ان کا سب سے بڑا فلسفہ نظرية وحدت الوجود ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ کائنات کا ایک ظاہر ہے جو نظر آرہا ہے اور ایک باطن ہے جس کا نام اللہ ہے۔عبداللہ ابن تیمیہ (1263-1228ء) شام کے شہر حران میں پیدا ہوئے۔علما کی نظریاتی مخالفت کی وجہ سے آٹھ سال تک پابند سلاسل رہے۔ہمیشہ تصنیف و تالیف میں مصروف رہے اور پانچ سو کتابیں زیب قرطاس کیں۔یونانی فلسفے پر پہلی کاری ضرب امام غزائی نے لگائی اور آخری ابن تیمیہ نے ان کی چند فلسفیانہ تصانیف کے نام یہ ہیں: الارادة والامر، القضاء والقدر، درجات الیقین ، معارج الوصول، عرش الرحمن الرد علی فلسفته ابن رشد، ابطال وحدۃ الوجود۔اقلیم ہیت کے شہنشاہ نصیر الدین الطوسی کی علم اخلاق پر موتیوں کی لڑیوں میں پروئی کتاب اخلاق ناصری ہے جو کئی سو سال تک لوگوں کے قلب و ذہن پر چھائی رہی۔تجرید العقائد علم کلام پر معرفت کا خزینہ ہے جس پر قدیم اور جدید شرحیں بڑی تعداد میں لکھی گئی ہیں۔عمر بن ابراہیم خیام غضب کا شاعر، ماہر فلکیات، موسیقار، ریاضی داں ہونے کے ساتھ ساتھ یگانہ روز گار فلسفی بھی تھا۔اس نے فلسفے کے موضوع پر درج ذیل کتابیں حوالہ قرطاس کیں: رسالہ الكون والتکلیف ، جواب الثالث المسائل، رساله في الكليات الوجود، رساله الضياء العقلي في الموضوع الکلی ، رسالہ فی الوجود [46]۔رسالہ کون (هستی) و تکلیف (احکام خداوندی) میں اس نے دو دلچسپ سوالوں کا جواب دیا: ایک یہ کہ خدا نے یہ دنیا ( خصوصاً انسان ) کیوں بنائی؟ دوسرے انسانوں کو عبادات بجالانے کی کیوں تکلیف دی؟ مایہ ناز عالم و فلسفی جلال الدین السیوطی (1505-1445 ء ، مصر ) کا ان تھک قلم شب و روز چلتا رہا۔انہوں نے قرآن، حدیث، تاریخ، فقہ، فلسفہ پر پانچ سو ساٹھ کتابیں