مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 81 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 81

149 ہیں۔اردو میں بھی اس کا ترجمہ شائع ہو چکا ہے۔148 غیاث الدین الکاشی (1420ء) نے ہئیت میں تمام تحقیقی کا م سمر قند میں الغ بیگ کی رصد گاہ میں کیا تھا۔اس کی مشہور کتاب فارسی زبان میں زیج خاقانی تھی جس میں اس نے 515 شہروں کے طول بلد اور عرض بلد دیے تھے۔اس کے مخطوطات انڈیا آفس لائبریری لندن اور ابا صوفیہ استنبول میں موجود ہیں۔ای ایس کینیڈی (E۔S۔Kennedy) نے ان جدولوں کو مدون کر کے امریکہ سے 1987ء میں شائع کیا ہے۔اس کا ایک نسخہ الکاشی جیوگرافیکل ٹیبلز (Al-Kashi's Geographical Tables) کنگسٹن یونیورسٹی کی اسٹافر لائبریری میں موجود ہے۔عاجز نے کتاب کے مطالعہ سے ہندوستان کے پرانے شہروں کے جو طول بلد ، عرض بلد نکالے وہ درج ذیل ہیں۔ان جدولوں کا عنوان ہے: جدول اطوال البلدان عن جزائر الخالدات وعروضها عن خط الاستواء 109,26 Kanoj 114,26 Kaulam (Kerala) 120,13 Mahura (Mathura) 116,24 Mansura (Hyderabad, Sind) 105,26 Birun (Hyderabad, Pakistan) 104,24 Saduban (Sehwan, Sind) 104,28 Somnath (Gujarat) 107,22 ہندوستان میں شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر کے دور حکومت میں اس دور کے نامور انشا پرداز ، مورخ اور جغرافیہ داں ابوالفضل علامی ( پیدائش 1551ء) نے فارسی میں آئین اکبری لکھی جس میں ہندوستان کے جغرافیائی حالات صوبہ وار دیے گئے ہیں۔مولانا حالی نے حیات جاوید میں لکھا ہے کہ اس کا انگریزی ترجمہ ایچ بلیک مین (H۔Blackman) نے۔1873ء میں کیا تھا۔اکبر نامہ تاریخ کی لازوال کتاب ہے جو تین جلدوں میں 1907ء میں شائع ہوئی تھی۔ہندوستان میں اکثر جغرافیہ داں ایران سے آکر آباد ہوئے تھے۔ان میں سے ایک امین احمد رازی جو اکبر کے دور حکومت میں ہندوستان آیا تھا اور نور جہاں کے والد غیاث الدین کا رشتہ دار تھا۔اس نے اپنے زمانے تک کی ہندوستان کی تاریخ لکھی جس میں ایک باب دکن پر تھا۔فارسی زبان میں جغرافیہ پر اس کا شاہکار ہفت اقلیم (1593ء) ہے جس میں مختلف ممالک کے شہروں، قریوں اور نوادرات کا حال بیان کیا گیا ہے۔ایک اور ہندوستانی عالم محمد بن عمر العاشق نے مناظر العالم ( Description of the World) کے نام سے ایک کتاب لکھی جو 1598ء میں دمشق میں منظر عام پر آئی [40]۔الحسن غرناطی (1554-1485ء، تیونس ) نے چار لمبے سفر کیے۔اٹلی میں سفر کے دوران اس کو غلام بنالیا گیا اور اس کا نام لیودی افریقن (Leo the African) رکھ دیا گیا۔اس نے افریقہ پر ایک غضب کی کتاب لکھی جو المسالک والممالک کے سلسلے کی ایک کڑی تھی۔اس نے افریقہ کے شہروں کے درمیانی فاصلے میلوں میں دیے۔افریقہ کے نقشے بنانے والے نقشہ سازوں نے اس کتاب سے بہت فائدہ اٹھایا۔تاریخ عالم کے اس دور میں ترکی ایک بڑی طاقت بن چکا تھا۔ترکی کا مشہور ایڈ مرل سدی علی (1562ء ) فاضل ریاضی داں، ماہر ہئیت و جغرافیہ داں تھا۔اس نے اپنے ہندوستان کے سفرنامے کو مرآة الممالک 1556ء کے نام سے قلم بند کیا۔اس نے گجرات، سندھ، لاہور اور دہلی کے سفر کیے۔دہلی میں اس کی ملاقات بادشاہ ہمایوں سے ہوئی تھی۔علم بحریہ (Oceanography) پر اس کی کتاب المحیط (1554ء ) بیش قدر معلومات کا خزانہ ہے۔ایڈمرل محی الدین پیری رئیس (1554-1470ء) نے کولمبس کے آخری نقشے کی نقل تیار کی تھی۔بحری علوم پر اس کی انمول تصنیف کتاب البحریہ 1521ء میں شائع ہوئی تھی۔یہ جہاز رانوں کے لیے لکھی گئی تھی۔کتاب میں اہم موضوعات پر خامہ فرسائی کی گئی ہے جیسے طوفانوں کا آنا، فلکیاتی سفر (astronomical navigation)، جزائر اور ان کے اردگرد کے ممالک کے حالات ، قطب نما، پرتگالی قوم کا بحر ہند پر قبضہ ، کولمبس کے ذریعہ دنیا کی دریافت - کتاب میں بحیرہ روم اور Aegean Sea کے 219 چارٹس (charts) دیے گئے ہیں۔جزائر کے