مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 94 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 94

175 174 تھے۔کتنے افسوس کی بات ہے کہ اس عظیم دانشور کی عظمت کو مسلمان تو پورے طور پر نہ جان سکے لیکن دانشورانِ مغرب نے اس کی علمی شان کو پہچانا اور اس کی عظمت کا بانگِ دہل اعتراف کیا۔رشیدالدین (1317-1247ء) کسی معروف ایرانی یہودی طبیب کا بیٹا تھا جو میں سال کی عمر میں مشرف بہ اسلام ہوا۔اس کو منگول بادشاہ نے منگول قوم کی تاریخ اور ان کی جنگی فتوحات پر کتاب لکھنے پر مامور کیا چنانچہ اس نے جامع التواریخ 1307ء میں مکمل کی جو فارسی زبان میں عمدہ کتاب ہے۔الذھمی ( 1348 - 1274ء ، دمشق) نے تاریخ الاسلام لکھی۔ابن کثیر (1301-1372ء) نے قرآن پاک کی تفسیر کے علاوہ سیرت رسول اللہ اللہ اور تاریخ اسلام پر البدایہ والنہایہ ( چودہ جلدوں میں) لکھی۔جلال الدین السیوطی ( 1505-1445ء) نے تفسیر القرآن، حدیث، شریعت اور علم تاریخ پر متعدد کتابیں قلم بند کیں۔دلیل مخطوطات السیوطی میں آپ کی تصنیف کردہ 723 کتابوں، رسالوں اور مضامین کی فہرست دی گئی ہے۔جیسے جامع الجوامع ، اتقان فی علوم القرآن تفسیر جلالین ، طب النبوى، مناقب الخلفاء، تاريخ الخلفاء، شرح تقریب النووی ، مصر والقاہرہ (مصر کی تاریخ پر مقبول عام کتاب)۔تقی الدین مقریزی (1442-1364ء) مصر کا مشہور عالم تاریخ داں تھا۔اس کی تمام تصنیفات مصر پر ہیں۔دو جلدوں پر مشتمل ذکر الخطاط والآثار کا فرانسیسی ترجمہ 1895ء میں کیا گیا۔ایوبی اور ملک حکمرانوں کی تاریخ پر کتاب کا فرانسیسی میں ترجمہ 1845ء میں ہوا۔اس نے مصر کے علما اور حکماء کی سوانح عمریوں پر المنتفی کے نام سے کام شروع کیا جسے وہ اتنی جلدوں میں لکھنا چاہتا تھا مگر سولہ مکمل کر سکا۔اس کے دستخط شدہ مخطوطات لیڈن اور پیرس میں موجود ہیں۔ابو العباس المقری (1632-1591ء ، الجیریا) نے زندگی میں پانچ بار جج کیا۔وہ دمشق میں صحیح بخاری پر درس دیا کرتا تھا۔اس نے اسلامی اسپین پر تاریخ کی مشہور کتاب تھیتہ الطیب من غصن یورپ میں چالیس سال تک سفر کرتا رہا۔متاع عزیز کے آخری تین سال اس نے دس جلدوں میں اپنی شاہکار کتاب بگ آف ٹریولیس (BookorTravels) لکھنے میں صرف کیے۔[50] مرتضی الزبیدی (1791-1732ء) کا تعلق ہندوستان سے تھا مگر وہ ہجرت کر کے یمن میں آباد ہو گئے تھے۔وہاں سے قاہرہ منتقل ہو گئے۔وہ ایک زبردست انشا پرداز تھے۔انہوں نے حدیث پر کتابوں کے علاوہ امام الغزائی کی احیاء العلوم کی شرح لکھی۔عربی میں ایک مفید لغت تیار کی۔مصر میں ان کی شہرت دعاؤں کی قبولیت اور شفاعت کے اعلیٰ مقام کی وجہ سے دور دور تک پھیلی ہوئی تھی۔تاریخ کے موضوع پر بھی ایک مبسوط کتاب ان کی یاد گار ہے۔دور حاضر کے تاریخ داں ہندوستان کے غلام علی آزاد بلگرامی (اٹھارہویں صدی ) عالم، محقق، مؤرخ اور کثیر التصانیف تھے۔انہوں نے سبحۃ المرجان فی آثار ہندوستان میں ، ہندوستان کی علمی فضلیت پر اظہارِ خیال کیا ہے۔کچھ علما اور اکابرین ہند کی سوانح عمریاں بھی پیش کی ہیں۔ہندوستان کی عشق و عاشقی کی روایات اور یہاں کی عورتوں کی اقسام اور ان کی خصوصیات کو بھی بیان کیا ہے۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سرسید احمد خاں (1898-1817ء) برصغیر کے مسلمانوں کے سب سے بڑے محسن اور ہمدرد تھے۔35 برس تک سول جج کے عہدے پر فائز رہے۔ان کی عظمت فکر، ژرف نگاہی ، نکتہ دانی، حکمت و دانش کو صفحہ قرطاس کی زینت بنا نا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔بلند پایہ فلسفی ہمفکر، ماہر تعلیم مفسر قرآن ہونے کے ساتھ وہ ایک بڑے مؤرخ بھی تھے۔تاریخ پر ان کی اکیس کتابوں میں سے چند کے نام یہ ہیں: آثار الصنادید، جلاء القلوب ( سیرت رسول الله ) ، تدوین آئین اکبری، تاریخ سرکشی بجنور، صل الله الاندلس الرتیب لکھی جس کا ترجمہ و تلخیص لندن سے 1843-1840ء میں شائع ہوا۔یہ کتاب قاہرہ تدوین و صحیح تاریخ فیروز شاہی برنی، جام جم ( تیمور سے لے کر بہادرشاہ ظفر تک چوالیس سلاطین سے بھی 1885ء میں منظر عام پر آئی تھی۔اولیاء شلابی (1682-1614ء، ترکی) سلطنت عثمانیہ اور کے حالات ) سلسلۃ الملوک (202 شاہانِ دہلی کے حالات)۔