مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 88 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 88

163 162 ترجمہ 1671ء میں ایڈورڈ پوکاک (Edward Pocock) نے لاطینی میں فیلوسوفس آٹو ڈیڈ کاٹس (Philosophus Autodidcatus) کے نام سے کیا ، اس سے یورپ کے لوگوں پر اس کی اہمیت آشکار ہوئی اور دنیا کی دیگر زبانوں میں بھی اس کے تراجم کیے گئے۔کنگسٹن کی پبلک لائبریری میں اس کا ایک عربی نسخہ موجود ہے جو بیروت سے شائع ہوا تھا۔اس کے فلسفے کا ماحصل یہ ہے کہ کائنات کی ہر چیز دوسروں کے لیے ہے۔درخت اپنا پھل خود نہیں کھاتے۔دریا اپنا پانی خود نہیں پیتے۔یہ بہاریں، یہ برساتیں، یہ نفھے، یہ زمزمے سب دوسروں کے لیے ہیں۔پس وہی زندگی نظام کائنات کے مطابق ہو سکتی ہے جو دوسروں کے لیے ہو۔خدا کی ذات سورج کی روشنی کی مانند ہے جس کا عکس اگر ٹھوس مادے پر پڑے تو گمان ہوتا ہے کہ ٹھوس مادے سے روشنی پھوٹ رہی ہے لیکن ایک شفاف شئے سے گزرے تو صرف سورج کی روشنی کا مظاہرہ ہوگا۔اس نے حسنِ ازل سے آشنائی کے تین مراحل بتائے ہیں۔اول انسان اپنی ذات میں جذب ہو جاتا ہے اور دوسری تمام اشیا سے تعلق ختم کر لیتا ہے۔دوم انسان حقیقت سے آشنائی پر بے انتہا مسرت محسوس کرتا ہے اور اس کیفیت میں اپنی ذات کو پالیتا ہے۔سوم انسان اپنی ذات خدا کی ہستی میں جذب کر دیتا ہے اور تمام اشیا اس کے نزدیک معدوم ہو جاتی ہیں۔اس کی تصانیف میں رسالۃ فی النفس ، کتاب فی البقع المسکونہ ہیں۔فلسفیوں کا سرخیل قاضی ابن رشد القرطبی (1198ء ) اندلس کا عظیم فلسفی تھا۔اس کی کتابیں چھ سو سال تک یورپ کی درسگاہوں کے نصاب میں شامل رہیں۔راجر بیکن نے اس کو ارسطو اور ابن سینا کے بعد دنیا کا تیسرا بڑا افلسفی قرار دیا ہے۔فلسفے کے موضوع پر اس کی قابل ذکر کتابیں ہیں : مبادی الفلسفہ، تحافة التحافة، کتاب کشف المنائج، العادلہ عقائد الملة فصل المقال۔ابن رشد نے ارسطو کی 38 کتابوں کی شرح اور تلخیص لکھیں۔وہ ارسطو کو صاحب المنطق کہا کرتا تھا۔ارسطو کی کل کتابوں کی جو شر میں اس نے لکھیں وہ تین قسم کی ہیں (1) جوامع یا شرح بسيط (large commentaries) میں اس نے ارسطو کے ہر فقرے کو پہلے تصریح کے ساتھ بیان کیا، پھر اپنی طرف سے اس کی شرح بیان کی، (2) تلخیص یا شرح متوسط یا صغیر ( medium commentary) میں اس نے ارسطو کا پورا متن نقل نہیں کیا بلکہ اس کی عبارتوں کے ابتدائی فقروں کو نقل کر کے اس کی شرح پیش کی (3) مختصرات (short commentaries ) میں اس نے ارسطو کی کتاب کا متن دیے بغیر اس کے مطالب بیان کیے۔یہودی حکماء نے یورپ میں ابن رشد کی بہت ساری کتابوں کے تراجم کیے، یا اس کی کتابوں پر شر میں لکھیں۔یو نیورسٹی آف پیڈ وا (University of Padua ،اٹلی) کے مطبع خانے نے 1480ء سے 1580 ء کے عرصے میں اس کی کتابوں کے سو کے قریب تراجم شائع کیے۔سلی کے بادشاہ فریڈرک دوم نے 1224ء میں اٹلی کی یو نیورسٹی آف نیپلز (University of Naples ) میں ابن رشد کی کتابیں نصاب میں شامل کیں۔1973ء میں فرانس کے بادشاہ لوئی یاز دہم (Louis X نے حکم دیا کہ فرانس کی تمام درسگاہوں میں اس کی وہ کتابیں نصاب میں شامل کی جائیں جن کا تعلق ارسطو سے ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ اس عظیم المرتبت مسلمان فلسفی نے یورپ کو اپنے تبحر علمی سے گراں بار احسان کیا۔یورپ کی ذہنی بیداری اور حیات ثانیہ اس کے ذکر سے لبریز ہیں۔ارسطو کی کتابوں کی شرحیں لکھنے کی بنا پر اس کو شارح اعظم (The Commentator) کے لقب سے بھی نوازا گیا۔روایت ہے کہ شہرہ آفاق یہودی عالم موسیٰ ابن میمون خود ابن رشد کی کتب پر شرحیں لکھا کرتا تھا۔اس کی کتاب تحافة الفلاسفہ کا لاطینی ترجمہ 1328 ء میں کیا گیا۔فریڈرک دوم (Frederick II) کے درباری محقق مائیکل اسکاٹ نے بھی اس کی متعدد کتابوں کی شرحیں لکھیں۔مائیکل نے 1230ء میں ابن رشد کی کتاب شرح کتاب السماء والعالم اور شرح مقالہ فی الروح کا ترجمہ کیا۔اس کی متعدد کتابیں جیسے شرح الارجوزہ لابن سینا ، شرح جالینوس، مقالہ فی الترياق، کتاب الکلیات وغیرہ میڈرڈ کے قریب واقع مشہور زمانہ اسکور یال لائبریری (Escorial Library)